کیلیفورنیا: امریکی ریاست کلیلی فورنیا میں لگنے والی آگ کو مکمل طور پر بجھانے کی ساری کوششوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفانی ہوائیں شروع ہونے والی ہیں جن کے باعث آگ تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ طوفانی ہواؤں سے آگ پھیلنے کی صورت میں 60 لاکھ سے زائد افراد کی زندگی داؤ پر لگ جائے گی۔

محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان کے نتیجے میں چلنے والی تیز ہواؤں سے خبردار کیا ہے۔ شمالی لاس اینجلس کے مکینوں کو مقامی انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ اپنی ضروری اشیا اور دیگر سامان کے ساتھ ساتھ جلد از جلد اپنے گھروں سے نکل جائیں۔

سمندری طوفان سینٹا اینا کے نتیجے میں چلنے والی ہواؤں کی رفتار 75 میل فی گھنٹہ تک بھی ہوسکتی ہے۔ چند علاقے سمندری طوفان سے چلنے والی ہواؤں کی زد پر ہیں اور محکمہ موسمیات نے اپنی پیش گوئی میں بھی سمندری طوفان کے اچانک اٹھنے اور تیز رفتار ہوائیں چلنے کے امکان پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے۔

لاس اینجلس کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ لیونا نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی شخص کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتے۔ ہم یہ کہہ کر دھوکا نہیں دے سکتے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، معاملات قابو میں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملات قابو میں نہیں ہیں۔

لاس اینجلس کاؤنٹی میں لگنے والی بھیانک آگ نے سیاسی رسا کشی بھی شروع کردی ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس واقعے سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اس آگ نے کم و بیش 40 ہزار ایکڑ رقبے پر مکانات اور دیگر عمارتوں کو تباہ کر ڈالا ہے۔ اب مزید 60 لاکھ افراد کے لیے خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سمندری طوفان

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب
  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ