وزیراعظم کی یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم 15 لاکھ کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم بڑھا کر 15 لاکھ کرنے کی ہدایت کر دی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت چھوٹے اور درمیانے درجے (SMEs) کے کاروبار کے امور پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ایس ایم ایز کی ترقی و سہولت کیلئے حکومتی اقدامات پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
دوران اجلاس وزیراعظم نے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کیلئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کرنے کی ہدایت کی جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ان کا تفصیلی سروے جلد مکمل کرنے کا بھی حکم دیا۔
190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال قید ہو سکتی ہے : فیصل واوڈا
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو دی جانے والی سہولیات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کا اطلاق یقینی بنایا جائے، چھوٹے پیمانے کے کاروبار میں خواتین آنٹر پرونیورز کیلئے خصوصی پیکیج تشکیل دے کر جلد پیش کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افرادی قوت کو کاروبار کی ترغیب دینے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینے کیلئے پر عزم ہیں، دنیا بھر میں ایس ایم ایز معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔
معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے نہایت مہنگی گاڑی خرید لی ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ ایس ایم ایز کو فروغ دے تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو، حکومت نوجوانوں اور خواتین آنٹرپرونیورز کو اس قدر با اختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے کہ وہ نہ صرف خود روزگار کمائیں بلکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے کاروبار کرنے کی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔