پرتگال یورپ کا ایک خوبصورت اور تاریخی اعتبار سے اہم ملک ہے جو حالیہ چند برسوں کے دوران انڈین، بنگالی، برازیلین، نیپالی اور پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ پرتگال آنے والے غیرملکیوں کو چند ہی برسوں میں پی آر مل جانا ہے۔

کچھ عرصہ قبل پرتگال کی حکومت نے غیرملکیوں کے لیے ویزوں کا اجرا کم کردیا تھا لیکن اب ایک بار پھر سے پرتگال نے ویزا کے عمل کو ہموار بنانے اور غیرملکی تارکین وطن کو ایک ماہ کے اندر ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پرتگال میں کس قسم کے مواقع موجود ہیں اور یہ ملک پاکستانیوں سمیت دیگر غیرملکیوں کی توجہ کا مرکز کیوں ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، پرتگال نے ورک ویزے جاری کرنے کا اعلان کردیا

پرتگال کے ویزا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹریول ایجنٹ شیخ محمد شایان کا کہنا ہے کہ پرتگال کی ویزا کی شرح اس وقت باقی ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، اس کا اندازہ پرتگال کے قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں 2023 کے مقابلے میں 2024 میں ویزا کی شرح میں تقریبا 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرتگال کو اس وقت افرادی قوت کی کافی زیادہ ضرورت ہے۔ پرتگال کی لیبر مارکیٹ میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر سالانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ غیرملکی ورکرز کی ضرورت ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق، صرف تعمیرات کے شعبے میں 80 ہزار اضافی ورکرز کی ضرورت ہے۔ پرتگالی آجروں کا کہنا ہے کہ اگر اس کمی کو پورا نہ کیا گیا تو اس سے اقتصادی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اور ملک کے ترقیاتی مقاصد حاصل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

پرتگال کے ورک ویزا کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں کیوں دی جاتی ہیں؟ 

غیرملکی افراد پرتگال میں سب سے زیادہ ورک ویزا کے لیے اپلائی کرتے ہیں، کیونکہ بیشتر افراد خصوصاً نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے دیگر یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں پرتگال سے زیادہ بہتر تعلیمی مواقع موجود ہیں، لیکن سرمایہ کاری، ملازمت اور پی آر کے لیے لوگ پرتگال کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پرتگال کے نئے سولیڈیریٹی گولڈن ویزا سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پرتگال غیرملکیوں کو جلد ہی پی آر دے دیتا ہے۔ یعنی پی آر حاصل کرنے کے بعد پاکستانی شہری کسی بھی شینگن ملک میں جاسکتے ہیں اور اچھا کما سکتے ہیں۔ دیگر شینگن ممالک کا پی آر دینے کا طریقہ کار پرتگال کے مقابلے میں کافی مشکل ہے، یہی وجہ ہے کہ پرتگال جانے والے پاکستانیوں کو 5 سال مکمل ہونے پر نیشنیلٹی کارڈ مل جاتا ہے۔

پرتگال میں پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے کونسے مواقع ہیں؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے گزشتہ 3 برس سے پرتگال میں مقیم پاکستانی شہری عبداللہ اسماعیل نے بتایا کہ پاکستانیوں کے پرتگال آنے کی وجہ یہ ہے کہ پرتگال کی امیگریشن ایک طویل عرصے سے کھلی ہوئی ہے، لیکن گزشتہ 3 سال میں سوشل میڈیا کی وجہ سے پرتگال کے بارے میں آگاہی زیادہ ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرتگال شینگن ممالک کا ایک ایسا رکن ملک ہے جہاں آپ کسی بھی روٹ سے داخل ہوسکتے ہیں، یعنی کسی بھی ملک کا شینگن ویزا لیا جائے تو پرتگال کی شہریت باآسانی حاصل کی جاسکتی ہے، آپ چاہے اعلیٰ سطح کی ملازمت کررہے ہوں یا پھر کسی ہوٹل میں ملازم ہوں، 5 سال مکمل ہونے کے بعد پرتگال آپ کو نیشنیلٹی دے دیتا ہے۔

پرتگال کی شہریت حاصل کرنا آسان کیوں؟

عبداللہ اسماعیل نے بتایا کہ پرتگال پہنچ کر وہاں کی شہریت حاصل کرنے کا طریقہ کار باقی ممالک کی نسبت کافی آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند برسوں سے پاکستان کے حالات کے پیش نظر ہم وطنوں نے بیرون ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا ہے جبکہ پرتگال میں آسانیوں کے پیش نظر یہ ان کے لیے ایک ’ٹاپ ڈیسٹینیشن‘ بن چکا ہے، کیونکہ یہاں پر وہ جلد ہی شہریت حاصل کرلیتے ہیں۔

’پرتگال میں پاکستانیوں کے لیے چھوٹی موٹی نوکریاں ہی سب سے زیادہ ہیں کیونکہ یہاں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے، زبان نہ آنے کی وجہ سے پرتگال میں اچھی نوکری حاصل کرنا مشکل ہے، مگر اسکلڈ لیبر کے لیے پرتگال بہت بہترین ملک ہے جو یہاں آنے والے ہر فرد کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس کو 5 سال بعد نیشنیلٹی بھی دیتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پرتگال کیوں جانا چاہتے ہیں؟

انہوں نے مزید بتایا کہ پرتگال آنے والے 90 فیصد افراد زبان کے مسئلے کی وجہ سے 5 سال بعد پرتگال چھوڑ دیتے ہیں، جب انہیں پرتگال کی شہریت مل جاتی ہے تو وہ دیگر 30 شینگن ممالک کا رخ کر لیتے ہیں جہاں پر انگریزی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے اور وہاں اچھی تنخواہوں پر نوکریوں کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

دیگر شینگن ممالک میں ڈگری ختم ہونے کے ایک سال بعد اگر اپنی ہی فیلڈ کی نوکری نہ ملے تو غیرملکی طلبہ کو ملک چھوڑنے کا کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن پرتگال آپ کو اس چیز کا پابند نہیں کرتا کہ آپ اپنے ہی شعبے کی نوکری کریں، پرتگال میں آپ کسی بھی شعبے میں ملازمت کرکے گزارا کرسکتے ہیں اور 5 سال پورے ہونے پر آپ کو شہریت دے دی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ پرتگال نے اپنی ورک ویزا پالیسی کو باقی ممالک کی نسبت زیادہ لچکدار اور دوستانہ بنایا ہے، جس سے غیرملکی وکرز کے لیے یہاں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے پرتگال میں مختلف صنعتوں جیسے زراعت، تعمیرات اور خدمات کے شعبے میں کام کرنے کے بہترین مواقع دستیاب ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسکلڈ لیبر پاکستانی پرتگال شہریت شینگن ملک مواقع نوجوان نوکری ورک ویزا ورکرز ویزا یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی شہریت ملک مواقع نوجوان نوکری ورک ویزا ویزا یورپ پاکستانیوں کے لیے شینگن ممالک کی شہریت ممالک کا ورک ویزا سے زیادہ انہوں نے نے والے ویزا کے کسی بھی کی وجہ

پڑھیں:

حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی طلب اور دستیاب ذخائر کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبوں کی ضروریات پوری کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔

وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے موجودہ گندم ذخائر ملک بھر کے صوبوں کی مجموعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر کو صوبوں کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق تقسیم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔

وزارت کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فوری درآمد کے ذریعے ملکی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت عوام کو سستی، معیاری اور وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامی اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت گندم درآمد کرنے سے نہ صرف آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ممکنہ قلت اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاونت حاصل ہوگی۔

حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، سپلائی چین کو مستحکم رکھنے اور عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی غذائی اجناس کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرے گی : ہارون اختر خان
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی