بھارتی گلوکار درشن راول نے اپنی دوست دھارل سورلیا سے شادی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
ممبئی : بالی وڈ کے معروف گلوکار درشن راول نے اپنی دوست دھارل سورلیا کے ساتھ روایتی انداز میں شادی کرلی۔
شادی کی تقریب میں دلہن نے سرخ لہنگا جبکہ دلہا نے سفید کڑھائی والے شیروانی میں سب کو متاثر کیا۔ درشن نے انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، "میری بہترین دوست ہمیشہ کے لیے۔"
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی تصاویر میں جوڑے کو خوشی سے مسکراتے اور اپنی نئی زندگی کی شروعات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلی تصویر میں درشن نے دھارل کو گلے لگایا ہوا ہے، دوسری تصویر میں دونوں شادی کے منڈپ میں بیٹھے ہوئے ہیں، اور ایک اور تصویر میں ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دیے دکھایا گیا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Darshan Raval (@darshanravaldz)
مداحوں اور دوستوں نے تصاویر پر مبارکباد کے پیغامات کی بھرمار کر دی۔ ایک مداح نے لکھا، "آپ دونوں کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا، آپ کی جوڑی ہمیشہ سلامت رہے۔" ایک اور صارف نے کہا، "انتظار کا وقت ختم ہوا، اور یہ لمحہ انتہائی خوبصورت ہے۔ زندگی بھر کی خوشیوں کے لیے دعاگو ہوں۔"
دھارل سورلیا کا پس منظر آرکیٹیکچر اور ڈیزائن سے ہے، جبکہ درشن راول بالی وڈ کے مشہور گلوکار ہیں اور انہوں نے کئی ہٹ گانے دیے ہیں، جن میں 'پریم رتن دھن پایو،' 'چھوگڑا،' اور 'صاحبہ' شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی