پرائیوٹ ٹرینوں میں ٹھیکیداروں کی من مانیاں‘ مسافر پریشان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) ٹرینیں پرائیویٹ کرنے کی پالیسی مسافرو ریلوے حکام کی ناک تلے پرائیویٹ ٹھیکیداروں کی مسافروں سے اوور چارجنگ، لاہور سے راولپنڈی میں چلنے والی ریل کاروں میں ٹھیکیداروں کی من مانیاں جاری ہیں۔تفصیلات کے مطابق کمپلی منٹری سروسز کے نام پر چائے، بسکٹ،سنیکس دئیے جاتے ہیں، مسافروں کا کہنا ہے کہ کمپلی منٹری سروسز کے نام پر پیش کردہ اشیاء کا بھاری بل تھما دیا جاتا ہے۔ بھاری بل ادا نہ کرنیوالے مسافروں کو ٹرین سے اتارنے کی دھمکی دی جاتی ہے، پرائیویٹ ٹھیکیداروں کا عملہ خود کو اسٹاف ظاہر کروا کر مسافروں کو دھمکاتا ہے۔ لاہور سے راولپنڈی جانے والی پنڈی ریل کار کے مسافروں نے چلتی ٹرین میں احتجاج کیا۔مسافروں کاکہنا تھا کہ ریلوے حکام نے ٹرینوں کے مسافروں کو ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،سفری سہولیات میں بہتری کے دعویدار ریلوے حکام پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے آگے بے بس دکھائی دے رہے ہیں، متعدد بار شکایات کے باوجود ریلوے حکام ٹھیکیداروں کی من مانیاں نہ روک سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریلوے حکام
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔