صدر مملکت اور آرمی چیف سے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سیّد عاصم منیر سے ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل ڈاکٹر محمد باقری نے ملاقات کی ہے۔
صدر مملکت ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات میں دوطرفہ اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اور پاکستان و ایران کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں بارڈر پر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر پاکستان ایران کا اتفاق
اعلامیہ کے مطابق دونوں برادر ممالک نے باہمی مفاد میں تجارتی اور اقتصادی تعلقات فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا گیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ چیلنج ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کو مؤثر اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے غزہ اور لبنان پر پاکستان کے مؤقف کو سراہا۔
دریں اثنا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف سے ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری کی ملاقات پیر کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان اور ایران کا 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ خودمختار فلسطینی ریاست کے مؤقف کا اعادہ
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر میجر جنرل محمد باقری نے جی ایچ کیو میں یادگار شہدا پر پھول رکھے، پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آصف علی زرداری ایرانی مسلح افواج جنرل عاصم منیر جنرل محمد باقری چیف آف جنرل اسٹاف دوطرفہ تعلقات صدر مملکت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری ایرانی مسلح افواج چیف ا ف جنرل اسٹاف دوطرفہ تعلقات صدر مملکت وی نیوز ایرانی مسلح افواج کے چیف چیف ا ف جنرل اسٹاف صدر مملکت کے چیف ا ف کے مطابق سے ایران ایس پی
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار