الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر کیا ،عدالت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے حق میں جھکاؤ کو ظاہر کیا، عادل بازئی کبھی بھی ن لیگ کے رکن نہیں رہے مگر الیکشن کمیشن نے صرف ن لیگ کے سربراہ کی بات پر یقین کیا۔عدالت عظمیٰ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کردیا جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی ممبر پارلیمنٹ منحرف ہوجائے تو اسے شوکاز نوٹس جاری کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن یا ٹربیونل پارٹی ہیڈ کے ڈیکلریشن کا جائزہ لے کر اس کی
تصدیق کرتا ہے، پارٹی ہیڈ کے ڈیکلریشن کا تنازعہ ہو تو اسے فریقین سول کورٹ میں طے کرسکتے ہیں، الیکشن کمیشن حقائق کا خود سے جائزہ نہیں لے سکتا۔جسٹس عائشہ ملک نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ آئین واضح طور پر یہ فراہم کرتا ہے کہ حکومت کا اختیار صرف عوام کی مرضی پر مبنی ہے، یہ مرضی عوام کے اپنے حق رائے دہی کے استعمال اور انتخابی و سیاسی عمل میں شرکت کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، انتخابات بنیادی طریقہ ہیں جس کے ذریعے رجسٹرڈ ووٹر اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، جو ان کی جانب سے حکومت کریں گے اور حکومت کے اختیارات کا استعمال کریں گے، اس مقدمے کے حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن عوام کی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کی اپنی آئینی ذمے داری نبھانے میں ناکام رہا۔اضافی نوٹ میں جسٹس عائشہ نے لکھا کہ چونکہ اپیل کنندہ کا پورا کیس اس بات پر مبنی تھا کہ وہ کبھی بھی ن لیگ کا امیدوار یا رکن نہیں رہا اس لیے جب انحراف کا معاملہ سامنے آیا تو الیکشن کمیشن نے اپیل کنندہ کے پیش کردہ کسی بھی ثبوت کو نہ تو دیکھا اور نہ ہی 16 فروری 2024ء کے حلف نامے کے حوالے سے اس کے مؤقف پر غور کیا سربراہ ن لیگ کی بات کو الیکشن کمیشن نے بغیر کسی جانچ پڑتال کے قبول کرلیا اور اور اس بنیاد پر کارروائی کی، اس عمل نے اپیل کنندہ کے انصاف اور شفاف سماعت کے حق کی خلاف ورزی کی اور ان لوگوں کے حقِ رائے دہی کی بھی خلاف ورزی کی جنہوں نے اپیل کنندہ کو ووٹ دیا، یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے حق میں جھکاؤ ظاہر کیا۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ جو الیکشن کمیشن کے آئینی فرائض اور آئین کے دیے گئے معیارات کی خلاف ورزی ہے کہ وہ ایمانداری، انصاف اور غیرجانبداری سے کام کرے، عدالت نے الیکشن کمیشن کو یاد دلایا ہے کہ انتخابات جمہوریت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی دیانتداری کا ضامن ہے، الیکشن کمیشن کی آزادی انتخابات کیعمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے بصورت دیگر جمہوریت کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ یا سیاسی انجینئرنگ کے تابع نہیں ہونا چاہیے بلکہ جمہوریت کا غیرجانب دار محافظ رہنا چاہیے، حکومت کے حق میں الیکشن کمیشن کا جھکاؤ سیاسی نظام کی قانونی حیثیت کو متاثر کرے گا، عوامی ووٹ کی بالادستی اس تصور کو اجاگر کرتی ہے کہ ایک جمہوری نظام میں اختیار اور قانونی حیثیت عوام کی رضامندی سے حاصل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک آزاد آئینی ادارے کی ضرورت ہے تاکہ انتخابات کے ذریعے عوام کی مرضی کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، یہ افسوسناک ہے کہ اس عدالت کے واضح احکامات کے باوجود الیکشن اپنے آئینی فرائض کے برعکس طرزِ عمل اپناتا ہے۔علاوہ ازیںایک دوسرے کیس میں عدالت عظمیٰ کے آئینی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی انتخابی دھاندلی کے خلاف درخواست پر وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات پر تیاری کے لیے مہلت دے دی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہوگی۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے عمران خان کے وکیل سے مکالمے کے دوران کہا اگر آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن جانبدار ہے تو متعلقہ فورم پر جانا چاہیے تھا، فارم 45 یا 47 دونوں میں اگر فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، فارم کو جانچنے کے لیے پوری انکوائری کرنا ہوگی۔وکیل نے موقف اپنایا کہ میں صرف اعتراضات دور کرنے آیا تھا آپ میرٹ پر بات کر رہے ہیں، جو 8 فروری کو ہوا تھا ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک سارا الیکشن ہی غلط تھا؟ ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری ہوگی، پہلے بھی انتخابات دھاندلی کا ایشو اٹھا تھا، انکوائری کے لیے آرڈیننس لانا پڑا تھا، 184 کے تحت دائرہ اختیار عدالت کا نہیں ہے۔وکیل نے کہا کہ یہ اس عدالت کی کمزوری ہے کہ ابھی تک سوموٹو نہیں لے سکی، اس پر جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے الفاظ کا چناؤ دیکھ کر کریں۔عدالت نے وکیل کو مزید تیاری کے لیے مہلت دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن نے حکومت کے حق میں نے ریمارکس دیے اور حکومت کے اپیل کنندہ مندوخیل نے عوام کی کے لیے
پڑھیں:
ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کا اپ اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر شاذ و نادر ہی عوام کی توجہ مبذول کرتا ہے جب تک کہ کسی بڑی دریافت کا اعلان نہ کیا جائے۔ تاہم، ماری انرجی لمیٹڈ (پہلے ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے نام سے جانا جاتا تھا) کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) کے پاس جمع کرائے گئے آفیشل ریکارڈز کا جائزہ ایک دلچسپ کہانی کا انکشاف کرتا ہے: ایسا لگتا ہے کہ کرک بلاک میں ہالینی فیلڈ نے پہلے کے ترقیاتی منصوبوں میں کیے گئے قدامت پسند پیداواری مفروضوں کو مسلسل پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ہالینی کی دریافت 2011 میں بلاک 3271-1 (کرک) میں کی گئی تھی۔ تشخیصی کام کے بعد، ماری نے 2018 میں ہالینی ڈسکوری پر D&P لیز اور فیلڈ ڈویلپمنٹ پلان کے لیے درخواست جمع کرائی جس کے ساتھ تفصیلی فیلڈ ڈویلپمنٹ پلان، ریزروائرز ایویلیوایشن رپورٹ اور 2014 میں آئی پی آر انٹرنیشنل لمیٹڈ، یو ایس اے کے ذریعے آزاد ریزرو سرٹیفیکیشن رپورٹ کی گئی۔ 2016. ماری نے آپریٹر کے طور پر 60% کام کرنے کی دلچسپی رکھی، جبکہ MOL نے 40% حصہ لینے والی دلچسپی برقرار رکھی۔
لیز کی شرائط کے تحت، (رپورٹر کے پاس دستیاب دستاویز) تجدید میعاد ختم ہونے کے وقت تجارتی پیداوار کے تسلسل سے مشروط ہے۔ نتیجتاً، طویل مدتی ذخائر کی کارکردگی اور متوقع فیلڈ لائف اثاثے کے مستقبل کا جائزہ لینے میں اہم تحفظات ہیں۔
2014 میں آئی پی آر انٹرنیشنل کے ذریعہ کئے گئے آزاد ذخائر کی تشخیص میں پیداواری فیلڈ لائف کا تخمینہ تقریباً 2034 تک پھیلا ہوا تھا۔ اس مطالعہ میں ارضیاتی تشریح، ریزروائر انجینئرنگ کا تجزیہ، زوال وکر ماڈلنگ، مادی توازن کا مطالعہ، اور متحرک ذخائر کی نقل شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ، تشخیص نے فیلڈ ریکوری پر گیس لفٹ ٹیکنالوجی کے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بحالی کی بہتر تکنیک مادی طور پر حتمی ذخائر کو بہتر بنا سکتی ہے اور پیداواری فیلڈ لائف کو بڑھا سکتی ہے۔
ماری کی طرف سے کیے گئے ذخائر کے بعد کے مطالعے نے اس نقطہ نظر کو مزید تقویت دی۔ کمپنی کی 2018 ریزروائر ایویلیوایشن رپورٹ نے مندرجہ ذیل ریزرو تخمینہ پیش کیے:
| DCA Method | Ultimate Recoverable Reserves | Remaining Reserves Aug 2018 | Forecast | ||
| Categories | Oil (MMstb) | Gas (Bscf) | Oil (MMstb) | Gas (Bscf) | |
| 1P | 4.12 | 4.89 | 1.42 | 2.12 | 2025 |
| 2P | 4.81 | 5.92 | 2.11 | 3.15 | 2029 |
| 3P | 6.81 | 8.89 | 4.11 | 6.12 | 2043 |
بعد ازاں ریگولیٹری انکشافات کے ذریعے دستیاب رپورٹ شدہ پیداواری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہالینی نے 2025-2026 کی مدت کے دوران تقریباً 0.7 MMSCFD کی پیداوار جاری رکھی۔ پیداوار کی یہ سطح 2018 کے ذخائر کی تشخیص میں بیان کردہ اعلی ریزرو منظرناموں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مطابقت رکھتی ہے بجائے اس کے کہ پہلے کی ترقی کی منصوبہ بندی کے معاملات میں زیادہ قدامت پسند مفروضوں کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایک خاص طور پر قابل ذکر پیش رفت ستمبر 2025 میں ہوئی جب ماری انرجی نے ڈی جی پی سی کو تیل اور گیس کی پیداوار کی ایک طویل مدتی پیشن گوئی پیش کی۔ جمع کرانے کے مطابق، ہالینی سے پرعزم پیداوار 2044-45 تک جاری رہنے کا امکان تھا۔ یہ پروجیکشن زیادہ قدامت پسند ریزرو کیسز سے وابستہ ٹائم لائنز سے آگے ایک اہم توسیع کی نمائندگی کرتا ہے اور D&P لیز کی مستقبل کی تجدید میں ایک اہم غور و فکر بن سکتا ہے۔
اجتماعی طور پر دیکھا جائے تو 2014 کی آزاد ریزرو سرٹیفیکیشن، 2018 کے ذخائر کی تشخیص، بعد میں پیداوار کی کارکردگی، اور 2025 کی طویل مدتی پیداوار کی پیشن گوئی اس فیلڈ کی ایک مستقل تصویر پیش کرتی ہے جس نے پہلے کی توقعات پر یا اس سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ ریزرو کے تخمینے فطری طور پر غیر یقینی صورتحال کے تابع ہیں اور مستقبل کے ذخائر کے رویے کی کبھی بھی مکمل یقین کے ساتھ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ ہالینی کی پیداواری زندگی مادی طور پر اس سے زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جس کا اندازہ انتہائی قدامت پسند ترقیاتی مفروضوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
ہالینی فیلڈ پیٹرولیم کی ترقی میں ایک وسیع سبق کی وضاحت کرتا ہے۔ ابتدائی ترقیاتی منصوبے اور ریزرو کیسز اکثر منصوبہ بندی اور ریگولیٹری مقاصد کے لیے قدامت پسند مفروضوں کو اپناتے ہیں۔ جیسا کہ پیداوار کی تاریخ جمع ہوتی ہے اور ذخائر کے رویے کو بہتر طور پر سمجھا جاتا ہے، بحالی کی بہتر حکمت عملی اور آپریشنل تجربہ اضافی قدر کو غیر مقفل کر سکتا ہے اور فیلڈ لائف کو اصل توقعات سے آگے بڑھا سکتا ہے۔
موجودہ ریگولیٹری ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہالینی 2040 کی دہائی تک پاکستان کی گھریلو توانائی کی فراہمی میں ایک بامعنی شراکت دار رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو کہ مسلسل آبی ذخائر کے انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، بحالی کی بہتر تکنیک، اور ایک اثاثہ کی زندگی بھر فیلڈ کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً از سر نو جائزہ لیتی ہے۔