پاک بھارت آغاز دوستی کے 13 ویں امن کیلنڈر کا اجراء
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
لاہور:
پاکستان اور بھارت کے مابین تناؤ کو کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے طلبہ کی بنائی گئیں پینٹگز پر مشتمل 13 ویں پاک انڈیا امن کیلنڈ رکا اجراء کردیا گیا۔
پینٹنگز کے علاوہ امن کیلنڈر میں امن اور بقائے باہمی کے مقصد کی حمایت کرنے والی ممتاز شخصیات کے پیغامات بھی شامل ہیں۔
پاک بھارت امن کلینڈر 2025 ء کا اجراء گزشتہ روز بھارتی شہر گڑگاں میں کیا گیا۔
منتظمین کا کہنا ہے آئندہ چند روز میں پاکستان میں بھی امن کیلنڈرکے اجراء کی تقریب ہوگی۔
پاک بھارت امن کیلنڈرکا اجراء کرنیوالی غیرسرکاری تنظیم آغاز دوستی کی طرف سے جاری تفصیل کے مطابق امن کلینڈر کے اجراء کے موقع پر پرامن بقائے باہمی کی امیدوں کا اشتراک کے موضوع پر مباحثے کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں سماجی کارکن اور ڈائریکٹر نیشنل گاندھی میوزیم ڈاکٹر اے انملائی، بیسٹ مین آف انڈیا سے مشہور ماحولیاتی کارکن راکیش کھتری اور امیت کپورصدر آئی ڈبلیو ایس انڈیا شریک تھے۔
مباحثے میں لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی آصف محمود نے ورچوئل شرکت کی۔
آغاز دوستی کی کنوینیئر ڈاکٹر دیویکا متل نے کہا معصوم اور غیرسیاسی ذہن کی پینٹنگز والا کیلنڈر خطے میں امن، دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :