پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ تک پہنچنا مقصد تھا وہ پہنچ گئی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ تک پہنچنا مقصد تھا وہ پہنچ گئی: خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اسٹیبلشمنٹ تک پہنچنا مقصد تھا وہ پہنچ گئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نےکہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہو گئے ہیں تو پھر ہمارے ساتھ مذاکرات کی کیا ضرورت ہے؟ پی ٹی آئی کا بیان آ گیا ہے ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے ہوگئے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ آیا تو ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ داخلی معاملات میں کوئی بیرونی پریشر نہیں لیں گے، ہم اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے، پی ٹی آئی سے مذاکرات شروع ہوئے تو بانی کیخلاف مقدمہ چل رہا تھا۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھاکہ عمران خان نے خود کہا کیس کا فیصلہ مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کا خواجہ ا صف
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔