تحریک انصاف کا نشان بانی پی ٹی آئی ہیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان—فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کا نشان بانیٔ پی ٹی آئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی واحد پارٹی ہے جس نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، پی ٹی آئی کا انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف دنیا کی چھٹی بڑی سیاسی جماعت ہے، انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف آئے 5 درخواست گزاروں نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ لوگوں کا حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے، معیشت کا حال بدترین ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگلی سماعت پر الیکشن کمیشن کو جواب دیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے عمر ایوب نے اسپیکر کو خط لکھا ہے، شبلی فراز نے چیئرمین سینیٹ کو پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے خط لکھا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک نئے چیف الیکشن کمشنر نہیں آتے آئینی طور پر یہی کام جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر کہنا ہے کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور ایک سائبر گروپ کے بانی پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں نیما صالحی بھی شامل ہیں جو ایرانی سائبر گروپ آشیانے کے بانی ہیں۔
یورپی یونین کا الزام ہے کہ یہ گروپ ایران کی سائبر پولیس فاٹا اور پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہوئے حکومتی سطح پر معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے اور آن لائن نگرانی میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر پانچ ایرانی ججوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاہم ان ججوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ جیسے جیسے ایران اندرونِ ملک کریک ڈاؤن میں شدت لا رہا ہے۔ یورپی یونین ذمہ دار افراد کا احتساب جاری رکھے گی۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے مزید کہا کہ اب تک ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں 269 افراد اور 53 ادارے یا تنظیمیں شامل کیے جا چکے ہیں۔