City 42:
2026-07-24@13:56:47 GMT

جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر کو لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT

ویب دیسک: وفاقی حکومت نے جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر کو لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا۔

 سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت ایڈیںشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بتایا کہ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جگہ نیا کمیشن سربراہ لگا دیا ہے، حکومت قانون سازی کےذریعے لاپتہ افراد ٹربیونل بنانا چاہتی ہے۔

 جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ لاپتہ افراد ٹربیونل کے لیے تو قانون سازی کرنا پڑے گی، جس پر ایڈیںشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ قانون سازی کے لیے کابینہ کمیٹی کام کر رہی ہے،

ایک مقدمہ سننے سے اتنی پریشانی ہو گئی بنچ سے کیس ہی منتقل کر دیا گیا؟ سپریم کورٹ

 جسٹس محمد علی مظہر کہا کہ کتنے عرصے میں قانون سازی کا عمل مکمل ہوگا، اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ قانون تو پہلے سے موجود ہے۔

 جسٹس جمال مندول کا کہنا تھا کہ کسی کو لاپتہ کرنا جرم ہے، کسی نے جرم کیا ہے تو ٹرائل کرے، جرم نہیں کیا تو چھوڑیں اس کو، جس پر ایڈیںشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت ایک مرتبہ لاپتہ افراد ایشو کو سیٹ کرنا چاہتی ہے، اگر مسئلہ حل کرنا ہوتا تو لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو چکا ہوتا۔

مستحقین کو اس بار رمضان نگہبان پیکیج کارڈز کی شکل میں ملے گا: مریم اورنگزیب

 جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اب تک کمیشن نے کتنے لاپتہ افراد کی ریکوریاں کیں؟ کیا بازیاب ہونے والے آکر بتاتے کہ وہ کہاں تھے، جس پر رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن نے جواب دیا کہ بازیاب ہونے والے نہیں بتاتے وہ کہاں پر تھے۔

 جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم امید ہی کر سکتے کہ حکومت لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرے، پارلیمنٹ کو قانون سازی کا نہیں کہہ سکتے۔

 بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
 

7 سالہ صارم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے پر کیس کا رخ پھر تبدیل

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: لاپتہ افراد کہا کہ

پڑھیں:

بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار

منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • زندگی کا مقصد
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن