ملتان، تاجروں کا ضلعی انتظامیہ کے خلاف احتجاج، ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
خواجہ سلیمان صدیقی ودیگر تاجر رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی تجاوزات کے خلاف کاروائی کی آڑ میں ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن دکانیں کرانے کا سلسلہ بند کرے، ضلعی انتظامیہ ملتان اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن ملتان انتظامیہ نے تجاوزات مافیا کے خلاف کاروائی کرنی ہے تو چھوٹی بڑی شاہرواں پر کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان اور انجمن تاجران چوک بازار کے زیرِاہتمام ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان، اے سی سٹی، اے سی صدر کا تجاوزات کی آڑ میں تاجروں کی دکانیں گرائے جانے کے خلاف حسین اگاہی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے کی قیادت مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، سینیئر وائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، صدر جنوبی پنجاب شیخ جاوید اختر، ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ، ملتان صدر خالد محمود قریشی، انجمن تاجران چوک بازار کے صدر شیخ پرویز اختر اور متاثرہ تاجر خواجہ عقیل نے کی۔ احتجاجی مظاہرے کے موقع پر تاجر رہنماوں نے ضلعی انتظامیہ کو تین روز کے اندر متاثرہ تاجر کے نقصان کا مداوا کرنے اور اے سی سٹی، اے سی صدر کے تبادلے کا مطالبہ کر دیا، مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر تین روز کے بعد ابتدائی مرحلے میں ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں احتجاج اور بعدازاں ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا، احتجاجی مظاہرے کے موقع پر مظاہرین ضلعی انتظامیہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے خلاف نعرے بازی کی گئی کہ ضلعی انتظامیہ کی غنڈہ گردی نہیں چلے گی۔
خواجہ سلیمان صدیقی ودیگر تاجر رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی تجاوزات کے خلاف کاروائی کی آڑ میں ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن دکانیں گرانے کا سلسلہ بند کرے، ضلعی انتظامیہ ملتان اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن ملتان انتظامیہ نے تجاوزات مافیا کے خلاف کاروائی کرنی ہے تو چھوٹی بڑی شاہراوں پر کرے، مارکیٹس اور بازاروں میں غنڈہ گردی نہ کریں جن کی وجہ سے خواجہ عقیل کی دو دکانیں گرائے جانے پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو گئیں اور ان کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو گیا، اب وہ کہاں سے اپنے خاندانوں کی کفالت کریں گے، اس طرح کی غنڈہ گردی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن ملتان کے افسران، اہلکاران اور ملتان انتظامیہ تجاوزات مافیا سے بھتہ لیتے ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جاتی بلکہ حکومت کو سالانہ اربوں روپے ٹیکس دینے والے تاجروں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے خلاف کاروائی ضلعی انتظامیہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.