بھارتی ساختہ موبائل فونز اور دیگر ٹیکنالوجی آلات پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جنوری ۔2025 )بھارتی ساختہ موبائل فونز اور دیگر ٹیکنالوجی آلات پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن گئے کابینہ ڈویژن نے وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور صوبائی چیف سیکرٹریوں کو مراسلہ بھجوا دیا ہے. قومی انگریزی جریدے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے مراسلے میں پاکستان کے حساس انفارمیشن انفرا اسٹرکچر میں بھارتی مداخلت سے مانیٹرنگ کے خدشے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جیو پولیٹیکل تناﺅ کے باعث سائبر سیکیورٹی خطرات ہوسکتے ہیں.
(جاری ہے)
کابینہ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ فیک ویب سائٹس اور ایپل طرز کے پورٹل تک رسائی کے ذریعے حساس ڈیٹا چرایا جاسکتا ہے، بھارتی مینوفیکچرنگ پروڈ کٹس، ڈیوائسز پاکستان کے لیے سیکیورٹی خدشات بن سکتی ہیں ان مصنوعات کے ذریعے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور میلویئر وائرس کی موجودگی کا خطرہ ہے. ذرائع کے مطابق پروڈکٹس کی تیاری میں ہارڈ ویئر یاسافٹ ویئر کے ساتھ وائرس کی موجودگی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے ممکنہ چھیڑچھاڑ، ملیویئریا اسپائی ویئر وائرس کی موجودگی کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا ہے بھارتی مصنوعات ڈیٹا انٹرسیپشن کے ذریعے ٹارگٹ سائبر سرگرمیوں کا باعث بن سکتی ہیں ہیکرز ایپل کے معاون ایجنٹس یا بھارت میں سروس سینٹرز کا روپ دھار سکتے ہیں پورٹلز اور ویب سائٹس تک رسائی فیک ای میلز یا میسجز کے ذریعےکی جاسکتی ہے. مراسلے میں پاکستان میں ایپل کی مصنوعات کو تصدیق شدہ ری سیلر سے خریدنے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ خریداری کے وقت ڈیوائسز کی سیل چیک کی جائے مراسلے میں آئی فون آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے ایپل ڈیوائسز اپ ڈیٹ رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیونکیشن کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ سروسز، مضبوط پاس ورڈ استعمال کیا جائے، اینٹی وائرس ایپلی کیشن بھی لازمی استعمال کی جائے کابینہ ڈویژن نے مراسلے میں ایپل کے آفیشل چینلز سے اپ ڈیٹس لینے کی سفارش بھی کی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کابینہ ڈویژن مراسلے میں کے ذریعے کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حساس ٹیکنالوجی کی غیر مجاز منتقلی کے خطرات سے متعلق تشویش کا باعث ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق فہرست میں شامل ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت دفاعی تحقیق اور حساس ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے تناظر میں خصوصی پابندیوں اور نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور حساس تحقیق کے غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس کا عملی دائرۂ کار امریکی قوانین کے تحت دفاعی تعاون، فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مخصوص پابندیوں سے متعلق ہے۔