ٹھہر جائیں، موسم خوشگوار ہونے دیں، حکومت کا پی ٹی آئی کو مذاکرات ختم نہ کرنے کا مشورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بات چیت ختم کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کہتے ہیں کہ کچھ دن ٹھہر جائیں، موسم خوشگوار ہونے دیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی لاجک سمجھ نہیں آئی کہ وہ 5 دن انتظار نہیں کرسکتے، ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اب بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہے، ہماری اپیل ہو گی کہ وہ اس امر کو نہ چھوڑیں، سیاست میں مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں، اگر آپ سیاسی، جمہوری رویوں کے اندر رہنے اور مذاکرات کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو بھی آپ مذاکرات کی طرف آئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماں نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے ایما یا حکم پر مذاکرات کے سلسلے کو ختم کر رہے ہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ مذاکرات کا یہ عمل ان کی پیش رفت پر شروع ہوا تھا، 5 دسمبر کو انہوں نے ایک کمیٹی قائم کی تھی اور خود خواہش کی تھی کہ ہم بات چیت کرنا چاہتے ہیں، اس سے قبل ان کی بہت سی معرکہ آرائیاں ہو چکی تھیں، 9 مئی، فائنل کال اور 24، 25، 26 نومبر بھی ہو چکا تھا۔ترجمان حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد پی ٹی آئی نے محسوس کیا کہ ان کے پاس معرکہ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ باقی رہ گیا ہے تو انہوں نے ایک کمیٹی بنادی، انہوں نے ایوان میں بھی خواہش کا اظہار کیا کہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم نے 7 اتحادی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی، جس کے بعد ہمارے درمیان سنجیدگی سے بات چیت شروع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے اجلاس میں طے پایا کہ وہ اپنے مطالبات تحریری شکل میں لائیں گے، دوسرے اجلاس میں نہیں لائے، اس کے بعد 16 جنوری کو وہ اپنے مطالبات تحریری شکل میں لے کر آئے۔
ترجمان حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو 5 دسمبر سے 16 جنوری تک اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کرنے میں 42 روز لگے، اور ہم سے یہ تقاضا ہے کہ ہم 7 دن میں ان تمام نکات کا جواب بھی دے دیں اور ہماری شرائط کے مطابق جوڈیشل کمیشن قائم کریں، جن ججوں کا ہم نے کہا ہے اس میں ان کو شامل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان مطالبات کو بڑی سنجیدگی سے لیا، ہماری کمیٹی بیٹھی، ہم نے غور و فکر کیا، لیکن آج انہوں نے کہا ہے ، وہ میرے لیے بڑا افسوسناک ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایسی جماعت جو ہم سے ہاتھ ملانا نہیں چاہتی تھی، جو سمجھتی تھی کہ یہ چور اور ڈاکو ہیں، ان کے قریب نہیں جانا، ان سے ہاتھ نہیں ملانا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ راضی ہونے کے بعد مجھے نہیں سمجھ آتا کہ ان 7 دنوں میں ایسی کیا چیز ہوئی ہے، واضح کردوں کہ اس دن کے اعلامیے میں لکھا تھا کہ دونوں کمیٹیوں ں کے دوران طے پایا کہ 7 کاروباری روز کے اندر اپوزیشن کے مطالبات پر اپنا باضابطہ تحریری مقف دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال کے مطابق 7 کاروباری روز 28 جنوری کو پورے ہوتے ہیں، اور ہم اس حوالے سے اب بھی بڑی تندہی سے کام کر رہے ہیں، تاہم وہ جس بے تابی سے آئے تھے، اسی بے تابی سے جا رہے ہیں، ہم انہیں کہتے ہیں کہ ابھی کہتے ہیں کچھ دن ٹھہر جائیں، موسم خوشگوار ہونے دیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ جو آپ پہلے کرتے رہے ہیں وہ 6 دن بعد بھی ہو سکتا ہے، ہم 28 جنوری کی تاریخ اسپیکر قومی اسمبلی کو دے چکے ہیں کہ آپ اجلاس بلائیں، 7 جماعتیں جب متفق ہو جائیں گی، جو تقریبا ہو چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی لاجک سمجھ نہیں آئی کہ وہ 5 دن انتظار نہیں کرسکتے، ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اب بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہے، ہماری اپیل ہو گی کہ وہ اس امر کو نہ چھوڑیں، سیاست میں مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں، اگر آپ سیاسی، جمہوری رویوں کے اندر رہنے اور مذاکرات کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو بھی آپ مذاکرات کی طرف آئیں۔
حکومتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے بڑے صبر و تحمل سے اسے آگے بڑھایا، ہم نے دیکھا کہ عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی کال چل رہی ہے، وہ باہر پاکستانیوں کو کہہ رہے ہیں کہ پیسے نہ بھیجو، ہم نے اس پر تصادم نہیں کیا، ہم نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ عمران خان کو روکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی کو جو بھی اعتراضات ہیں، ہم لکھ کر دے دیں، تاکہ ہم اپنی جو ایکسرسائز کررہے ہیں، اس کے بارے مں کوئی فیصلہ کر سکیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ہماری کمیٹی قائم ہے، ہم مزید ملاقات کریں گے اور مشاورت کریں گے، 7 جماعتیں مل کر باضابطہ ردعمل ضرور دیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: موسم خوشگوار ہونے دیں ٹھہر جائیں پی ٹی آئی

پڑھیں:

طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل

یونان سے سامنے آنے والی نئی تصویر کے بعد قیاس آرائیوں کی شدت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

آرٹ کیوریٹر الیکی لیمپروپولوس کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویر میں شہزادی بیٹریس اور ان کے شوہر ایڈوارڈو میپیلی موزی کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شہزادی بیٹریس اور ایڈوارڈو میپیلی موزی کی پہلی ملاقات 2018 میں ہوئی تھی۔ دونوں نے ستمبر 2019 میں منگنی کی اور مئی 2020 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

شادی کے بعد شہزادی بیٹریس، ایڈوارڈو کے پہلے بیٹے کرسٹوفر وولف کی سوتیلی والدہ بھی بنیں۔ بعد ازاں ستمبر 2021 میں ان کے ہاں بیٹی سینا الزبتھ میپیلی موزی کی پیدائش ہوئی، جبکہ جنوری 2025 میں دوسری بیٹی ایتھینا الزبتھ روز میپیلی موزی نے جنم لیا۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایڈوارڈو اپنے سسرالی معاملات کے ممکنہ اثرات کے باعث اپنی کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے پریشان ہیں، جس سے ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق قیاس آرائیوں نے جنم لیا۔

بعد ازاں اپریل 2026 میں ایڈوارڈو کے والد الیساندرو میپیلی موزی نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں ان کے بیٹے سے ہی بات کی جائے۔

اس کے علاوہ رواں سال دونوں کی جانب سے شادی کی سالگرہ پر روایتی سوشل میڈیا پوسٹس نہ کرنے کے باعث بھی ان کی علیحدگی سے متعلق افواہیں زور پکڑ گئی تھیں۔

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف