غزہ جنگ بندی، مرکزی رہنماء جے یو پی علامہ سید عقیل انجم قادری کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
غزہ سیزفائر، فاتح کون، حماس یا صہیونی اسرائیل؟ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد اسرائیل نے غزہ و حماس سے متعلق کیا دعوے کئے؟ اسرائیل نے حماس کے ساتھ سیز فائر کیوں کیا؟ حماس اسرائیل جنگ میں ایران، حزب اللہ، انصار اللہ یمن کا کردار؟ سیزفائر کے بعد کیا تحریک آزادی فلسطین ختم ہو جائیگی؟ غزہ سیزفائر کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داری؟ و متعلقہ دیگر اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید عقیل انجم قادری کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کے ساتھ شیئر بھی کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںمعروف اہلسنت عالم و سیاسی مذہبی رہنماء علامہ سید عقیل انجم قادری جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں، اس سے قبل وہ جے یو پی کراچی و سندھ کے صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داری سرانجام دے چکے ہیں، زمانہ طالبعلمی میں وہ انجمن طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ جے یو پی (نورانی) کی فعال ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے مصالحتی کمیشن کے اہم رکن ہیں۔ پاکستان خصوصاََ کراچی و سندھ بھر میں انکی اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے مولانا سید عقیل انجم قادری کیساتھ غزہ جنگ بندی و دیگر متعلقہ موضوعات کے حوالے سے کراچی میں انکی رہائشگاہ پر ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عقیل انجم قادری
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔