ایشیا کے امیر ترین شخص کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر بھارت میں تعمیر کرنیکا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
ایشیا کے امیر ترین شخص کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر بھارت میں تعمیر کرنیکا منصوبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2025 سب نیوز
ممبئی (آئی پی ایس )ایشیا کے امیر ترین شخص کی جانب سے ایک حیرت انگیز منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کو تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر ریاست گجرات کے شہر جام نگر میں کام کیا جائے گا اور یہ بھارت میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس مقصد کے لیے مکیش امبانی کی جانب سے اے آئی سیمی کنڈکٹرز NVIDIA کمپنی سے خریدے جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ NVIDIA اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چند اہم ترین عالمی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ریلائنس اور NVIDIA نے اکتوبر 2024 میں بھارت میں مشترکہ طور پر اے آئی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔
امریکی کمپنی کے مطابق اس کی جانب سے بلیک ویل اے آئی پراسیسرز ریلائنس کے ڈیٹا سینٹر کو سپلائی کیے جائیں گے، مگر اس حوالے سے مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔ستمبر 2024 میں ریلائنس انڈسٹریز اور NVIDIA نے بھارت میں اے آئی سپر کمپیوٹرز اور لارج لینگوئج ماڈلز (ایل ایل ایم ایس) کی تیاری کے لیے بھی شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی حکومت کی جانب سے بھی اے آئی منصوبوں میں سپورٹ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے 10 ہزار کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری اے آئی پراجیکٹس کے لیے کی جائے گی۔ مگر اس حوالے سے مختلف چیلنجز کا بھی سامنا ہے کیونکہ بھارت میں چپس تیار کرنے والی انڈسٹری نے ابھی آغاز کیا ہے اور اس حوالے سے بہت زیادہ سرمایہ کاری اور برسوں کی محنت کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایشیا کے امیر ترین شخص ڈیٹا سینٹر بھارت میں
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔