سکھر ، شیڈکالونی بلدیاتی مسائل کا گڑھ بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
سکھر (نمائندہ جسارت) انتظامیہ بالخصوص بلدیاتی نمائندگان کی عدم توجہی، ریلوے انجن شیڈ کالونی بلدیاتی مسائل کا گڑھ بن گئی، نکاسی آب نظام سمیت صفائی کے ناقص انتظامات، رہائشی سمیت آمد و رفت میں شہریوں کو پریشانی کا سامنا، شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی، علاقہ مکینوں کا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سمیت بلدیاتی نمائندگان کی عدم توجہی اور ناقص کارکردگی کی بدولت نیو پنڈ عقب ریلوے اسٹیشن کے قائم ریلوے کالونیوں میں بلدیاتی مسائل میں آئے روز اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے، نکاسی آب مفلوج ہونے کے باعث نالیوں اور گٹروں کے پانی نے تالاب کی شکل اختیار کر لی ہے، جبکہ ریلوے کالونیوں میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے باعث گندگی کے ڈھیر جمع ہو گئے ہیں، گندگی کے ڈھیر اور نکاسی کے کھڑے پانی کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، ریلوے کالونیوں میں رہائش پذیر ریلوے ملازمین سمیت دیگر مکینوں کا کہنا ہے کہ ریلوے کالونی میں صفائی کے ناقص انتظامات کے حوالے سے متعلق عملے سمیت یوسی چیئرمین و عوامی نمائندگان کو کئی بار تحریری شکایات کر چکے ہیں لیکن انتظامیہ اور بلدیاتی نمائندگان ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، شکایات کے باوجود کوئی افسر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔ متاثرہ علاقہ مکینوں نے حکام سے نوٹس لے کر ریلوے کالونیوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔