امریکی کانگریس کے اہم رکن سے ملاقات‘ تعلقات میں گرمجوشی آ رہی: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہیوسٹن میں امریکی کانگریس اور کانگریس کی فنانس کمیٹی کے اہم ممبر الیگزینڈر گرین سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاک امریکہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کانگریس مین الیگزینڈر گرین کو افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور دراندازی کے واقعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان میں آنے والے زلزلے اور سیلاب میں متاثرین کی بھرپور مدد پر کانگریس مین الیگزینڈر گرین کا شکریہ ادا اور الیگزینڈر گرین کے فلسطین ایشو پر اصولی موقف کو سراہا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی آرہی ہے اور آنے والے دنوں میں پاک امریکہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ کانگریس مین الیگزینڈر گرین نے کہا کہ جلد پاکستان کا دوبارہ دورہ کروں گا، زلزلے اور سیلاب میں پاکستانی عوام سے یکجہتی و مدد کے لئے 4 بار پاکستان آچکا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الیگزینڈر گرین محسن نقوی نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔