پہلے ہی بتا دیا تھا پی ٹی آئی کو ٹرمپ کارڈ پر مایوسی ہوگی، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے اچھی اور بڑی خبر ہے کہ 28 جنوری 2025ء کو یعنی آج پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ کی بہتر اور مثبت ہوائیں چلیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ٹی وی شو پر پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کو اُن کے ٹرمپ کارڈ پر مایوسی ہوگی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کے لیے اچھی اور بڑی خبر، جیسا کہ میں نے آپ کو ٹی وی شو میں قبل از وقت تاریخ سمیت بتادیا تھا کہ 28 جنوری 2025ء کو یعنی آج پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ کی بہتر اور مثبت ہوائیں چلیں گی۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ آج ہی کی تاریخ میں ٹرمپ ٹیم کے حالیہ دورے میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے معاہدے اور مزید اچھی خبریں متوقع ہیں، جس کا جو کریڈٹ ہے وہ اس کو دینا پڑے گا، کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے لیے فیصل واوڈا ٹرمپ کارڈ تھا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔