پاکستان کی بلیو اکنامی کیلئے پائیمک ایکسپو اہمیت کی حامل ہوگی: وائس ایڈمرل فیصل عباسی
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کی بلیو اکنامی کے لیے پائیمک ایکسپو اہمیت کی حامل ہوگی، پائیمک کانفرنس کے مثبت اثرات نمایاں ہوں گے۔
ایکسپو سینٹر کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیمک کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن تین سے چھ نومبر تک ہوگا، کانفرنس میں 44 ممالک پائیمک کانفرنس میں حصہ لیں گے، غیرملکی مندوبین کی بڑی تعداد پائیمک کانفرنس میں شریک ہو گی۔
وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی کا کہنا ہے کہ اس میگا ایکسپو کے انعقاد کے تعاون پر سندھ حکومت کے بھی شکر گزار ہیں، اس کانفرنس میں مقامی سرمایہ کاروں کو بھی فوائد حاصل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیمک میں انٹرنیشنل کانفرنس بھی ہوگی، مختلف موضوعات پر لیکچرز ہوں گے، سمندری آلودگی ایک چیلنج ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کام کر رہی ہے، بزنس کمیونٹی سمندری تجارت کی طرف آئیں، سمندر میں ہمیں کچھ نہیں کرنا اللّٰہ پاک نے بہت کچھ عطا کیا ہے، سمندری آلودگی پر بہت عرصہ ہم نے اس سے آنکھیں بند رکھی جو غلطی تھی۔
وائس ایڈمرل نے کہا کہ دنیا کے تمام ریجنز کے ممالک کا نمائش میں شریک ہونا پائیمک کی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اور شپ یارڈ کی ضرورت ہے، ہم کراچی شپ یارڈ کے بعد کوئی اور شپ یارڈ نہیں بنا سکے ہیں۔ نئے شپ یارڈ کے منصوبے پر وفاقی وزیر بحری امور کام کر رہے ہیں۔
وائس ایڈمرل محمد فیصل عباسی نے یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت سے ٹاسک فورس تیار کی ہے، یہ ایک چیلنج ہے جسے ٹھیک کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نیوی نے چین کے ساتھ آئل اینڈ گیس کے سروے کے لیے معاہدہ کیا تھا، تین سروے ہوئے، پتہ چلا کہ مکران اور دیگر مقامات پر ذخائر پائے گئے ہیں۔ کل آخری دن تھا بولی کا، دنیا کے بڑے ممالک بولی دے رہے ہیں، پاکستان کے پاس تقریباً 16 بلین ڈالر کے ذخائر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پائیمک کانفرنس وائس ایڈمرل کانفرنس میں فیصل عباسی شپ یارڈ
پڑھیں:
افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سلور جوبلی پوری تنظیم کیلئے باعث فخر ہے، کرغزستان نےاجلاس کی بہترین میزبانی کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او اب معیشت، ثقافت اور امن کا جامع فورم بن چکی ہے، ایس سی او خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مشترکہ ترقی و تعمیری سفارتکاری کی بنیاد ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغانستان کے شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے، افغان سرزمین سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، رواں سال 2 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے، 560 پاکستانی شہید ہوئے، افغان طالبان دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کو فروغ دے رہی ہے، شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی کے وعدے پورے کرنے پر زور دے۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے، مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی تنازعات کے حل اور دیرپا امن و سلامتی کے قیام کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت پاکستان کی دونوں فریقوں کے ساتھ قریبی روابط اور خطے و عالمی شراکت داروں کے ساتھ ہماری بھرپور سفارتی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ اسلام آباد ایم او یو اور دونوں فریقوں کے درمیان جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس تنازع کے مستقل، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے بھرپور کوشش کرے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان عناصر کے خلاف ہوشیار رہنے پر زور دیا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کو الٹنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہو گا۔