وفاقی عدالت نے فیڈرل گرانٹس اور قرضوں کو منجمد کیے جانے سے متعلق صدر ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو روک دیا۔

یہ گرانٹس اور قرضے امریکا میں لوکل حکومتوں، اسکولوں اور نان پرافٹ تنظیموں کی بقاء کے لیے لازمی تصور کیے جاتے ہیں۔

انتظامیہ کی کوشش تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کے تازہ ایگزیکٹو آرڈرز کی روشنی میں ان گرانٹس اور قرضوں کا جائزہ لینے کے بعد پروگریسو نوعیت کے جاری اقدامات کو ختم کردے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام سے امریکی حکومت کنفیوژن کا شکار ہوگئی تھی جس کے بعد ٹیکس دہندگان کی رقم کے کنٹرول پر آئینی تنازعہ کھڑا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

وفاقی جج Loren L.

AliKhan کی جانب سے حکمنامہ ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب فنڈنگ کو منجمد کیے جانے سے متعلق صدارتی حکمنامے پر چند منٹ بعد عمل شروع ہونا تھا۔

واضح رہے کہ ری پبلکن انتظامیہ فاسل فیول کی پیداوار بڑھانا چاہتی ہے، ٹرانس جینڈرز کے تحفظ کے اقدامات ختم کرنا چاہتی ہے، ساتھ ہی ڈائیورسٹی ، ایکویٹی اور انکلوژن سے متعلق بائیڈن دور کے اقدامات کو مٹانا چاہتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گرانٹس اور

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی