Jasarat News:
2026-07-24@13:32:31 GMT

خناق کی وبا سے 3 بچوں کی اموات افسوسناک ہے

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT

کو ئٹہ(نمائندہ جسارت)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کہا ہے کہ خضدار کی یونین کونسل کمبی تحصیل ناگ میں خناق کی وبا کے نتیجے میں تین معصوم بچوں کی اموات افسوس ناک ہے۔ یہ المناک سانحہ صوبے کے صحت کے نظام کی زبوں حالی، بنیادی سہولیات کی کمی اور حکومت کی غیر سنجیدگی کا کھلا ثبوت ہے۔ یونین کونسل کمبی، جو پہلے ہی صحت کی سہولتوں کے فقدان کا شکار ہے، اب اس مہلک وبا کے خطرے سے دوچار ہے۔ حکومت کی جانب سے بروقت اقدامات نہ کیے جانے کے باعث معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔خناق جیسی مہلک بیماری، جو بروقت علاج اور مناسب طبی سہولتوں کے ذریعے قابل علاج ہے، یونین کونسل کمبی میں بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خضدار کی حالت انتہائی خراب ہے، جہاں نہ تو ضروری ادویات دستیاب ہیں اور نہ ہی جدید طبی آلات موجود ہیں۔ خصوصا خناق کے علاج کے لیے اینٹی ٹاکسن جیسی جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی نے اس وبا کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ،بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ یونین کونسل کمبی میں فوری طور پر طبی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں، جن میں خناق کے علاج کے لیے اینٹی ٹاکسن، دیگر ادویات اور طبی عملہ شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا جائے اور عوام میں بیماری کے حوالے سے آگاہی پھیلائی جائے تاکہ مزید زندگیاں بچائی جا سکیں۔خضدار کے اسپتال کو فوری طور پر جدید طبی سہولتوں، ادویات فراہم کی جائیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان عوام، میڈیا اور سماجی حلقوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ یونین کونسل کمبی اور دیگر متاثرہ علاقوں کی حالتِ زار کو اجاگر کریں اور حکومت کو اپنی ذمغ داریاں پوری کرنے پر مجبور کریں۔ یہ وقت خاموشی کا نہیں، بلکہ معصوم جانوں کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کا ہے۔ہم حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کی ذمے داری قبول کرے اور متاثرہ علاقوں میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرے۔ اگر حکومت نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے بروقت کارروائی نہ کی تو مزید جانوں کا ضیاع ہو گا، جس کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ ہم عوام کے صحت کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور حکومت کو اس مسئلے پر جوابدہ بنائیں گے۔ ہم بلوچستان کے عوام کو بہتر صحت کے نظام کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن یونین کونسل کمبی فوری طور پر بچوں کی صحت کے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم