پاکستان سے یورپی یونین کو غیر معیاری اور جعلی چاول برآمد کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان سے یورپی یونین کو غیر معیاری اور جعلی چاول برآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس محمد جاوید حنیف کی زیر صدارت ہوا، جس میں ورپی یونین کی جانب سے پاکستانی چاول کی ایکسپورٹ پر اعتراضات کا معاملہ زیر بحث آیا۔
اجلاس میں کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے انکشاف کیا کہ پاکستان سے یورپی یونین کو غیر معیاری اور جعلی چاول کے برآمد کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین نے چاول کے حوالے سے پاکستان کوالرٹس جاری کی ہیں۔
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ یورپی یونین نے ہمیں 100 سے زائد الرٹس بھیجے ہیں۔ یہ الرٹس اس لیے بھیجے گئے کیونکہ جعلی چاول سپلائی کیے جا رہے ہیں۔ مارکیٹس میں چاول میں جعلی میٹریل زیادہ شامل ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا یہ چیزیں ہماری ناک کے نیچے سے کیسے گزر جاتی ہیں۔
رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ یورپی یونین نے 2024 میں پاکستانی چاول پر 72 رکاوٹیں کھڑی کیں۔ پاکستان کے چاول کی ایکسپورٹ میں کوالٹی کے مسائل آ رہے ہیں۔ ابھی کہا جا رہا ہے کہ ایک اور نیشنل فوڈ سیفٹی اتھارٹی بنائی جا رہی ہے۔ بس اتھارٹیز بنتی جا رہی ہیں لیکن مسائل کا حل نہیں نکل رہا۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی میں بتایا کہ یورپی یونین سائیڈ سے کوئی وارننگ ایشو نہیں کی گئی۔ ایک ایسی چیز جو ہوئی ہی نہیں اس پر اتنا بڑا ایشو بنا دیا جاتا ہے۔
اجلاس میں خورشید جونیجو نے بتایا کہ پنجاب سے چاول کی ایک کنسائنمنٹ پر یورپی یونین نے وارننگ جاری کی ہے۔ زرعی ونگز کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے سے ہی ایکسپورٹ مسائل حل ہوں گے۔ مرزا اختیار بیگ نے اس موقع پر کہا کہ اس سال چاول کی بھرپور پیداوار ہوئی اور ایکسپورٹ بھی شاندار رہی۔
محکمہ تجارت کے حکام نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر چاول کی کوالٹی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ صوبوں کے ساتھ چاول کی کوالٹی کے حوالے سے ہم نے کافی میٹنگز کی ہیں۔
ایک اور رکن کمیٹی نے کہا کہ ابھی بنگلا دیش سے ٹی سی پی کو 50 ہزار ٹن چاول کا آرڈر ملا ہے۔ چاول کی کوالٹی کے حوالے سے مسائل کر جلد حل کرنا ہوں گے۔
قائمہ کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز کو بلانے کا فیصلہ کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان تمام معاملات پر رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن سے تفصیلی بریفنگ لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورپی یونین نے کہ یورپی یونین کے حوالے سے نے کہا کہ بتایا کہ چاول کی
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔