وفاقی حکومت نے متعدد اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت پاکستان نے اسکول ایجوکیشن کے محکموں میں متعدد تدریسی ملازمتوں کا اعلان کردیا۔
حکومت نے ایلیمنٹری اسکول ٹیچر (بی پی ایس 14) کے عہدے کے لیے درخواستیں طلب کرتے ہوئے اخبارات میں اشتہار جاری کیا ہے۔
کل اسامیوں کی تعداد 257 ہے جن میں 212 مرد اور 45 خواتین شامل ہوں گی۔
اشتہار میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے تعلیمی اداروں (چھاؤنیوں/گیریژنز) میں مستقل اسامیوں کے لیے مطلوبہ تعلیمی قابلیت، کوٹے اور عمر کے معیار پر پورا اترتے والے پاکستانی شہریوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
اس حوالے سے درخواستیں آن لائن جمع کرائی جاسکیں گی اور درخواست کی فزیکل (ہارڈ) کاپی قبول نہیں کی جائے گی۔
درخواست جمع کرانے سے پہلے امیدواروں کو درست اور مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کرنی ہوں گی۔
جانچ پڑتال کے بعد شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو تحریری امتحان کے لیے مدعو کیا جائے گا۔
تحریری امتحان کی تفصیلات
تحریری امتحانات پشاور، راولپنڈی، لاہور، ملتان، کراچی اور کوئٹہ میں ہوں گے۔ امتحان کے مقام، تاریخ اور وقت کے بارے میں امیدوار کو اس کے آن لائن اکاؤنٹ کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔
امیدواروں کو اپنے اکاؤنٹ سے رول نمبر سلپ ڈاؤن لوڈ کر کے امتحانی مرکز پر لانی ہوگی۔
اہلیت کا معیار
تعلیم: امیدوار نے کم ازکم سیکنڈ ڈویژن یا سی گریڈ میں 4 سالہ بیچلر ڈگری حاصل کی ہوئی ہو یا پھر ایچ ای سی سے تسلیم شدہ کسی ادارے سے مثاوی ڈگری لی ہو۔
عمر کی حد: 18-30 سال (عمومی عمر میں 5 سال کی چھوٹ سمیت)۔ امیدوار کی عمر کا تعین درخواست کی آخری تاریخ کے مطابق کیا جائے گا۔
عمر کی حد میں نرمی
عمر میں رعایت مخصوص زمروں میں لاگو ہو سکتی ہے لیکن امیدوار صرف ایک زمرے کے تحت عمر میں رعایت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
انٹرویو اور انتخاب کا عمل
شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا۔
انٹرویو کی تفصیلات (مقام، تاریخ اور وقت) خطوط کے ذریعے شیئر کی جائیں گی۔
انٹرویو کے دوران شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کو تعلیمی سرٹیفکیٹس سمیت اصل دستاویزات ساتھ لانی ہوں گی۔
سرکاری ملازمین کو انٹرویو کے دوران اپنے محکمے سے ایک تازہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) فراہم کرنا ہوگا۔
درخواست آن لائن بھجوانے کی آخری تاریخ 10 فروری 2025 ہے۔ درخواست اس ایڈریس پر اپ لوڈ کی جا سکتی ہے۔https://induction.
fgei.gov.pk/
مزیدپڑھیں:ایف آئی اے کا نیا سربراہ کون ہوگا؟ نام سامنے آگیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: امیدواروں کو جائے گا کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔