بلوچستان بورڈ،انٹرکے امتحانی نتائج میں بے ضابطگیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
گوادر (نمائندہ جسارت) بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن(BISE) امتحانی نتائج کے اجرا پر سنگین بے ضابطگیوں کا مرتکب ہوا ہے جس سے حقدار طلبہ کی حق تلفی ہوئی ہے۔ تمام ثبوتوں کے ساتھ عدالت عالیہ بلوچستان کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔ انٹرمیڈیٹ کے نتائج کی بنیاد پر میڈیکل اور ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں جو بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اسے منسوخ کرکے نئی میرٹ لسٹ مرتب کی جائے۔ متاثرہ طلبہ کا گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب۔ مطالبات پیش کئے اور عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ متاثرہ طلبہ جس کی قیادت ظفر حاصل کررہے تھے نے گزشتہ روز گوادر پریس کلب میں بی ایس او کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ابوبکر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری طرف سے کی گئی ہر طرح کی تحقیق اور والدین کی شکایات سے انکشاف ہوا ہے کہ BISE بلوچستان بورڈ امتحانی نتائج کے اجرا میں سنگین بے ضابطگیوں کا مرتکب ہوا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں طلبہ کی بی ایم سی میرٹ لسٹ میں حق تلفی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے عملے کی ملی بھگت سے رشوت لے کر جعلی سرٹیفکیٹس کا بھی اجرا کیا گیا جو میرٹ کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل بلوچستان کے تعلیمی معیار کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے، رشوت خوری کا کلچر بلوچستان بورڈ میں سرایت کرچکا ہے، سرٹیفکیٹس کے اجرا سے لے کر امتحانات کے دوران نگران عملے کی تعیناتی پر ہر قدم پر غیرقانونی رقم وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب ہم نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہے کہ چار طلبہ نے ایف ایس سی امتحانات کے بعد بلوچستان بورڈ کو پیسہ دے کر اور تعلقات کی بنیاد پر اپنے مارکس میں اضافہ کرکے میرٹ کو پامال کیا جبکہ سپلیمنٹری امتحانات کے نتائج کا ابھی اعلان بھی نہیں ہوا ہے مذکور طلبہ یہ نمبر کہاں سے لائے جو بلوچستان بورڈ کے لئے بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ثبوتوں کے ساتھ ہم نے عدالت عالیہ بلوچستان سرکٹ بنچ تربت میں اپنی پٹیشن بھی دائر کررکھی ہے جس کی پہلی شنوائی ہوئی ہے اور دوسری شنوائی کوئٹہ میں ہوگی جس کی پیروی معروف قانون دان ایڈووکیٹ جاڈین دشتی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بی ایم سی کی نشست پر ایک بااثر طالبہ نے بی ایم سی ٹیسٹ کی فہرست میں اپنی انٹری لگائی ہے ہماری تحقیق کے مطابق مذکورہ طالبہ کا تعلق ڈسٹرکٹ کراچی صوبہ سندھ سے ہے جو مسلسل دو سال اپنے صوبے میں کوشش کرنے کے باوجود میرٹ پر نہیں آئی ہیں جسکے بعد اس طالبہ نے لوکل ڈومیسائل حاصل کرنے سے پہلے تعلقات کی بنیاد پر بی ایم سی ضلع گوادر کی نشستوں پر رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم سی انتظامیہ نے اس پر یہ جواز پیش کیا ہے کہ طالبہ کا لوکل سرٹیفکیٹ تکمیل کے مراحل میں ہے تیار ہونے کے بعد وہ اپنا لوکل سرٹیفکیٹ بی ایم سی کو جمع کرائے گی۔ تاہم ہم نے اپنے اعتراضات لوکل برانچ ڈپٹی کمشنر آفس کو جمع کرایا ہے تاکہ یہ یہ بااثر طالبہ گوادر کی میرٹ لسٹ میں فارم 47 کے ایم پی ایز کی طرح اپنی انٹری لگانے میں کامیاب نہ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بلوچستان بورڈ بی ایم سی ہوا ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ