Islam Times:
2026-07-24@16:04:43 GMT

یورپی یونین کا نیا اقتصادی ماڈل اپنانے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT

یورپی یونین کا نیا اقتصادی ماڈل اپنانے کا فیصلہ

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق ارسلا وان ڈیر لیین نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یورپ کے جدت طرازی کے انجن کو دوبارہ متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔  اسلام ٹائمز۔ امریکا اور چین کی جانب سے چیلنجز کا سامنا کرنے والی یورپی یونین نے یورپ کے اقتصادی ماڈل کو از سر نو ترتیب دینے کے لیے تجارت دوست خاکہ پیش کر دیا، جو 5 سال تک گرین اہداف پر بھرپور توجہ مرکوز کرنے کے بعد برسلز کو زیادہ بزنس فرینڈلی بنانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے، مصنوعی ذہانت پر زور دینے اور چین کے اہم صنعتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں اضافے کے بعد 27 ممالک پر مشتمل بلاک پر دباؤ ہے کہ وہ ترقی میں اضافہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے فضا سازگار بنائے۔ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یورپ کے جدت طرازی کے انجن کو دوبارہ متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور کاروباری اخلاقیات کے بارے میں یورپی کمیشن کی حالیہ ترجیحات نے بہت سے اداروں کو بہت زیادہ ریگولیشن کے بارے میں شکایت کی ہے۔

حالیہ ترجیحات سے توانائی کی زائد لاگت اور کمزور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی یونین کو امید ہے کہ وہ گزشتہ سال سابق اطالوی رہنماؤں اینریکو لیٹا اور ماریو دراگی کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کو عملی جامہ پہنا کر اس دوڑ میں دوبارہ شامل ہو جائے گا، لیکن وان ڈیر لیین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یورپی یونین 25 سال کے اندر کاربن کی غیر جانبداری تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ خطرناک موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2050 تک ہمارے اہداف بہت اہمیت کے حامل ہیں، تاہم یورپ کو ان اہداف تک پہنچنے کے حوالے سے لچکدار ہونے کی ضرورت ہے، خاص طور پر بلیو پرنٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں اخراج کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنے والے یورپ کے مشکلات کا سامنا کرنے والی کار ساز کمپنیوں کے لیے ممکنہ لچک ہونی چاہیے۔

اس منصوبے کے تحت درجنوں قوانین پر نظر ثانی کی جائے گی، جس میں ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی سپلائی چین کے معیارات، کارپوریٹ پائیداری اور کیمیائی تحفظ سے متعلق قوانین کو ختم کیا جائے گا، کمیشن کے نائب صدر اسٹیفن سیجرنے کی جانب سے پیش کیے جانے والے سمپلی فکیشن شاک نے ماحولیات کے ماہرین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ فرینڈز آف دی ارتھ یورپ کے عہدیدار کم کلیس نے خبردار کیا کہ آسانی کی آڑ میں یہ اقدام یورپی شہریوں، ماحولیات اور آب و ہوا کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کو ختم کر دے گا، تاہم یورپی یونین کے لابی گروپ بزنس یورپ کے ڈائریکٹر جنرل مارکس بیئرر نے اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ’ایک واضح اشارہ‘ قرار دیا کہ یورپی یونین یورپ کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

مجوزہ منصوبے کے متن کے مطابق، ہزاروں فرموں کا ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کے لیے درمیانے درجے کی کمپنی کی نئی کیٹیگری تشکیل دی جائے گی، 27 رکن ممالک کے قومی دائرہ اختیار سے الگ ایک یورپی قانونی نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ جدید کمپنیوں کو دیوالیہ پن، لیبر قانون اور ٹیکسیشن سے متعلق قوانین کے واحد ہم آہنگ سیٹ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جا سکے۔ یوکرین میں جنگ سے سستی روسی گیس کی فراہمی منقطع ہونے کے بعد یورپ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کر رہا ہے، جو اس کے بین الاقوامی حریفوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ سربراہ یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے ڈیووس میں عالمی اشرافیہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپ کو اپنی توانائی کی فراہمی کو متنوع بنانا جاری رکھنا چاہیے، اور جوہری سمیت صاف توانائی کے ذرائع کو بڑھانا چاہیے۔

ہدف، آسان امداد اسکیم صنعتی کاربنائزیشن کی حوصلہ افزائی کرے گی، سیجرن کو امید ہے کہ ترجیح کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے سرفہرست 100 مقامات کو گرین بنانے کی طرف جائے گی، جو صرف یورپ کے صنعتی اخراج کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔ اس منصوبے میں کم کاربن والی مصنوعات جیسے گرین اسٹیل کی طلب کو بڑھانے کے لیے لیبلز کی تخلیق کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں برسلز دلچسپی رکھتا ہے، لیکن اس کی زایدہ لاگت کی وجہ سے طلب انتہائی کم ہے، کیمیکلز، اسٹیل اور آٹوموٹو جیسے مشکلات سے دوچار شعبوں کے لیے مخصوص منصوبے بھی تیار کیے جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یورپی یونین کا سامنا کر کی جانب سے کرتے ہوئے یورپ کے کے لیے

پڑھیں:

20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی

جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔

جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔

نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔

مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی

اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا اے آئی بلیک بورڈ: استاد کی آواز اور لکھائی سمجھ کر سبق کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی
  • یورپی یونین نے ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ کے بانی پر پابندیاں عائد کردیں
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام