وفاق کا آئی جی پنجاب کی خدمات لینے کیلئے رابطہ، پنجاب حکومت کا انکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
پنجاب حکومت نے وفاق کو دیئے گئے جواب میں کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ہم ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر، کرائم بہت کم ہو گیا، مزید کام جاری ہے، آئی جی کو فی الحال تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات لینے کیلئے پنجاب حکومت سے رابطہ کر لیا۔ پنجاب حکومت نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات دینے سے انکار کر دیا۔ وفاق کی جانب سے پہلے بھی دو بار رابطہ کیا گیا، لیکن بلاوجہ افسران کی تبدیلی قابل قبول نہیں، پنجاب نے وفاق کو آگاہ کیا۔ دوسری جانب حکام کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عثمان انور بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اس لئے کوئی تبدیلی ضروری نہیں، پنجاب حکومت نے وفاق کو دیئے گئے جواب میں کہا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ہم ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر، کرائم بہت کم ہو گیا، مزید کام جاری ہے، آئی جی کو فی الحال تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عثمان انور کی خدمات پنجاب حکومت
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا