بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کیخلاف کارروائی تیز کرنے کے احکامات جاری۔
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
صوبہ بھر میں بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کیخلاف کارروائی تیز کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ایڈیشنل آئی جی ٹریفک پولیس مرزا فاران بیگ کے مطابق تمام سی ٹی اوز اور ڈی ٹی اوز ہیلمٹ پر سختی سے عمل درامد کروائیں۔رواں ماہ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوالوں کو 9 کروڑ 80 لاکھ سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔ فیصل آباد سمیت صوبہ بھر میں ہیلمٹ نہ پہننے پر 2 ہزار روپے جرمانہ عائد ہے۔ایڈیشنل آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ فیصل آباد سمیت صوبہ بھر میں ہیلمٹ کی خلاف ورزیوں پربلا تفریق کارروائیاں جاری رہیںگی،بار بار بھاری جرمانہ ادا کرنے سے بہتر ہے۔ آپ ہیلمٹ کا استعمال کیجیے۔ہیلمٹ حادثہ کی صورت میں سر کی چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے۔محفوظ سفر کے لیے ہیلمٹ کا استعمال اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کیجئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔