قومی ٹیم کے نوجوان آل راؤنڈرکی شادی کی تقریبات کا آغاز ، تصاویر وائرل ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
قومی ٹیم کے نوجوان آل راؤنڈر محمد وسیم جونئیر کی شادی کی تقریبات کا آغاز ہوگیا، جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر کھلاڑی نے اپنی مہندی و ڈھولک کی خوبصورت تصاویر شیئر کیں۔گزشتہ برس خاموشی سے نکاح کے بندھن میں بندھنے والے 23 سالہ آل راؤنڈر اب اپنی دلہنیا کو گھر لانے کو تیار ہیں۔
مختلف سوشل میڈیا پیجز پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑی کی دلہنیا کا نام اسماء ہے۔شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پہلے قومی کرکٹر کی مہندی اور ڈھولک کی تقریب کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا ہے، جس میں ان کے اہلِ خانہ سمیت قریبی عزیز و اقارب نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وسیم جونیئر نے کیپشن میں صرف مہندی کی تقریب کی تاریخ درج کی ہے، جس کے مطابق ان کی مہندی 29 جنوری 2025ء کو منعقد ہوئی۔گزشتہ برس جون میں کرکٹر نے نہایتی سادگی کیساتھ اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کرتے ہوئے نکاح کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ برس انجری کا شکار ہونے والے محمد وسیم جونیئر تینوں فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
قذافی اسٹیڈیم کے انکلوژر سے” عمران خان “کا نام ہٹایا جارہا ہے؟اہم خبر آ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی