پنشن اور ملازمین کے لیے پرانے طریقے کی بحالی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کا اجلاس صدر علی بخش جمالی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں چیف آرگنائزر شمس خلجی، حاجی سیف اللہ ترین، محمد زمان، نعمت اللہ خان، عزیز احمد سارنگزئی، بابو اشرف، نظام الدین سارنگزئی، اقبال بادینی، اللہ بخش کرد اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے گرینڈ الائنس بلوچستان کا حصہ بن کر بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کے رہنماؤں نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی ہر تحریک میں فیڈریشن صفِ اول کا کردار ادا کرے گی۔ملازمین تنظیموں پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قانون سازی کر کے پابندی ہٹائی جائے۔ فیڈریشن کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے پنشن اور ملازمین کے لیے نئی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پرانے طریقے کو بحال کیا جائے اور پنشن کے نظام میں مزید آسانیاں فراہم کی جائیں۔ انہوں
نے کہا کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پنشن سے کٹوتیوں کے بجائے حکومتی کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جائے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ اداروں کی نجکاری کے بجائے اصلاحات کی جائیں تاکہ عوامی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔ علاوہ ازیں، رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں حالیہ پارلیمنٹ ممبران کے مراعات کے اضافے کے برابر اضافہ کیا جائے۔ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک بھر کے مزدوروں کو ان کا جائز حق مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔