8فروری احتجاج ، حکومت کاپی ٹی آئی سے رابطوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
٭احتجاج کے بجائے جلسہ جلوس کرنے کی اجازت دینے کی پیشکش ،تحریک انصاف نے کوئی جواب نہیں دیا
٭حکومت فروری میں چار بین الاقوامی میگا ایونٹس کے موقع پر سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہتی ہے ، ذرائع
(جرأت نیوز)حکومت 8 فروری کو پی ٹی آئی کا احتجاج رکوانے کے لیے متحرک ہوگئی، اپوزیشن کے سامنے مختلف آپشن رکھ دیے ۔ ذرائع کے مطابق 8 فروری کا احتجاج رکوانے کے لیے حکومت کے پی ٹی آئی کی اعلی قیادت سے بیک ڈور رابطوں کا انکشاف ہوا ہے ، حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی بحالی کے ضمن میں پیشگی کے طورپراہم پیشکش بھی کردی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے مثبت پیش رفت کیلیے تحریک انصاف کی قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کروانے کی پیشکش کی ہے ، اسپیکر ایازصادق پی ٹی آئی کو مذاکرات کی بحالی پر ملاقات پر راضی کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، انہوں نے حکومتی پیشکش سامنے رکھ دی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کو 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کی بجائے کسی ایک جگہ پر جلسہ جلوس کرنے کی اجازت دینے کی پیشکش کی گئی ہے ، تاہم پی ٹی آئی حکومتی رابطوں اور پیشکش پر خاموش ہے اور اس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت فروری کے مہینے میں سیاسی عدم استحکام، دنگا فساد، توڑ پھوڑ اور پکڑ دھکڑ سے بچنا چاہتی ہے اور پی ٹی آئی کو ملک گیر احتجاج سے باز رکھنے کی پوری کوشش کررہی ہے ، اس ضمن میں حکومت کا پی ٹی آئی سے رابطوں کیلیے اسلام آباد میں ایک سفارتخانے سے بھی رابطہ ہوا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت فروری میں چار بین الاقوامی میگا ایونٹس کے موقع پر سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہتی ہے ، فروری میں یورپین یونین کی طرف سے پاکستان کیلیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا جائزہ لینے کا امکان ہے ، دوسری جانب 8 فروری کو لاہور میں دولت مشترکہ کی انٹرنیشنل پارلیمانی کانفرنس ہو رہی ہے ۔ اسی طرح فروری کے دوسرے ہفتے میں ترکی کے صدر اردوان پاکستان کے طے شدہ دورے پر آ رہے ہیں، اور فروری کے تیسرے ہفتے میں چیمپئینز ٹرافی کے ٹورنامنٹ کا پاکستان میں انعقاد ہورہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کو
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔