مصر اور اردن کے سربراہان کا غزہ میں مکمل جنگبندی کے معاہدے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
صیہونی کابینہ میں کافی تناؤ کے باوجود 19 جنوری 2025ء کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے پہلے فیز کا آغاز ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ آج مصر کے صدارتی دفتر نے اعلان کیا کہ پریذیڈنٹ "عبد الفتاح السیسی" نے اُردن کے بادشاہ "عبدالله دوم" سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماوں نے خطے کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی میں مکمل جنگ بندی کے اجراء اور اس پٹی میں بلا روک ٹوک تعمیر نو کے عمل کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل خطے میں قیام امن کی کنجی ہے۔ واضح رہے کہ صیہونی کابینہ میں کافی تناؤ کے باوجود 19 جنوری 2025ء کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے پہلے فیز کا آغاز ہوا۔ اس فیز کے پہلے مرحلے میں 3 خواتین صیہونی فوجیوں کے بدلے متعدد فلسطینی بچوں اور خواتین کو رہائی ملی۔ اب تک پہلے فیز میں 4 بار قیدیوں کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ طے یہ ہے کہ یہ معاہدہ تین مراحل میں نافذ اور مکمل ہو گا۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ صیہونی فوج غزہ میں اپنے اعلان کردہ اہداف میں مکمل ناکامی اور 471 روز کی وحشیانہ قتل و غارت گری کے بعد مقاومت سے جنگ بندی کرنے پر مجبور ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔