پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے کچھ ارکان نے پارٹی کے بانی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی ارکان پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے خلاف بانی پی آئی کو خط لکھیں گے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی رہنماؤں کا بیرسٹر گوہر پر پارٹی مفادات کے برعکس فیصلوں کا الزام ہے۔ ارکان نے بیرسٹر گوہر کے پارلیمانی امور پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر پر تحریک انصاف کے ایم این اے ڈاکٹر امجد خان نے سوالات اٹھائے، ڈاکٹر امجد خان نے صحت کی مفت سہولیات کا بل قائمہ کمیٹی میں پیش کیا تھا۔ذرائع کے مطابق ارکان کا الزام ہے کہ بیرسٹر گوہر نے پارٹی کے رکن کے بل کی مخالفت کی۔ ڈاکٹر امجد نے پنجاب اور کے پی اسمبلی سے قرارداد پاس کروانے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر امجد نے آصفہ بھٹو زرداری اور ن لیگ قیادت سے بھی بل پر رابطہ کیا تھا۔ ڈاکٹر امجد خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میرا بل تیار ہوا لیکن پارٹی چیئرمین نے بل کے خلاف آواز بلند کی۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر خان پر چنگیز خان کاکڑ کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا، چنگیز خان کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ میرا فیصل آباد میں ہائیکورٹ کا بل تھا کہ اپنے ہی چیئرمین نے مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رکن بل لاتے ہیں اور بیرسٹر گوہر اس کی مخالفت کر دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خط میں بیرسٹر گوہر کے پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت نہ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا جائے گا۔ ڈاکٹر امجد خان نے کہا کہ یہ ہماری پارٹی کا اندورنی معاملہ ہے اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ چنگیز خان کاکڑ نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے ساتھ ایک بل کے حوالے سے غلط فہمی ہوئی تھی وہ دور ہو گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ڈاکٹر امجد خان نے بیرسٹر گوہر کے ذرائع کے مطابق پارٹی کے کہا کہ

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی
  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن