اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس آج ہوگا ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز ذرائع کے مطابق اجلاس سپریم کورٹ کمیٹی روم میں دن 2 بجے ہوگا، اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا، جوڈیشل کمیشن کو 10 ایڈیشنل ججز کیلئے 49 نامزدگیاں موصول ہو چکی ہیں۔

عدالتی ذرائع کا بتانا ہے کہ 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور 45 سینئر وکلاء کے ناموں پر غور ہوگا، لاہور ہائیکورٹ کیلئے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز  قیصر نذیر بٹ، محمد اکمل خان، جزیلہ اسلم اور عبہر گل خان کے نام زیر غور آئیں گے۔

اسلام آباد سے غیرقانونی مقیم افغانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کوواپس بھیجا جائیگا،وزرات داخلہ

اجلاس میں ایڈووکیٹ عدنان شجاع بٹ، ایان طارق بھٹہ، امبرین انور راجہ کے نام زیر غور آئیں گے، اجلاس میں اسد محمود عباسی، اسماء حامد، بشریٰ قمر، اقبال احمد خان، سلطان محمود، غلام سرور کے ناموں پر غور ہوگا ۔

چیف جسٹس کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حیدر رسول مرزا، حارث عظمت، حسیب شکور پراچہ ، حسن نواز مخدوم، ہُما اعجاز زمان، خالد اسحاق، ملک جاوید اقبال وائیں، ملک محمد اویس، ملک وقار حیدر اعوان، میاں بلال بشیر، مغیث اسلم، محمد اورنگزیب خان، محمد جواد ظفر، محمد نوید فرحان کے نام بھی زیر غور آئیں گے۔

کراچی: ٹک ٹاک بناتے ٹرین کی ٹکر سے باپ اور بیٹا جاں بحق

جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نوازش علی پیرزادہ، ساجد خان تنولی، ثاقب جیلانی، محمد زبیر خالد، منور السلام، مقتدر اختر شبیر، مشتاق احمد، نجف مزمل خان، نوید احمد خواجہ، قادر بخش، قاسم علی چوہان، رافع ذیشان، جاوید الطاف، رانا شمشاد خان، رضوان اختر اعوان، صباحت رضوی کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں سلمان احمد، سمیعہ خالد، سردار اکبر علی، شیغن اعجاز، سید احسن رضا کاظمی ، انتخاب حسین شاہ اور عثمان اکرم ساہی کے ناموں پر بھی غور ہوگا۔ 
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ایڈیشنل ججز کی جوڈیشل کمیشن کے ناموں پر اجلاس میں

پڑھیں:

کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔

صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت