دبئی کیپیٹلز نے ڈیزرٹ وائپرز کو شکست دیکر آئی ایل ٹی 20 کے فائنل میں جگہ بنالی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
دبئی : دبئی کیپٹلز نے آخری گیند پر سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈیزرٹ وائپرز کو شکست دیکر آئی ایل ٹی 20 سیزن 3 کے فائنل میں جگہ بنالی۔ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں گلبدین نائب کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت کیپیٹلز نے 5 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ قبل ازیں ایلکس ہیلز نے صرف 32 گیندوں پر 67 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر میکس ہولڈن کے ساتھ 98 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے وائپرز کو شاندار آغاز فراہم کیا ۔ تاہم کیپیٹلز نے شاندار جوابی اننگز کھیلتے ہوئے وائپرز کو 7 وکٹوں کے نقصان پر 189 رنز پر محدود کر دیا اور پھر ہدف حاصل کرلیا۔
ابتدائی 6 اوورز کے بعد رنز بننا بند ہوگئے اور صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب لوکی فرگوسن نے 10 ویں اوور میں ایڈم روسنگٹن کو آوٹ کیا انہوں نے 31 گیندوں پر 44 رنز بنائے اس وقت اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 67 رنز تھا۔ گلبدین نائب اور کپتان سیم بلنگز کو ہدف کو تیزی سے حاصل کرنے کی ذمہ داری ملی بلنگز نے 12 ویں اوور میں محمد عامر کی پٹائی کرتے ہوئے 2 چوکے اور ایک چھکا لگایا، پھر اگلے اوور میں ہسارنگا کو تین چوکے اور ایک چھکا مارا وہ 16 گیندوں پر 38 رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔ نائب کے ساتھ روومین پاول بھی موجود تھے۔ کیپیٹلز کو 30 گیندوں پر 52 رنز درکار تھے پاول نے 18 ویں اوور میں ڈیوڈ پین کے ہاتھوں آؤٹ ہونے سے قبل 20 رنز بنائے۔ کیپیٹلز کو آخری اوور میں 12 رنز کی ضرورت تھی اور نائب خوش قسمت تھے کہ انہوں نے پہلی دو گیندوں پر چھ رنز بنائے۔
اگلی گیند پر دھرو پراشر نے انہیں ڈراپ کر دیا لیکن ایک گیند بعد میں اسکور برابر ہونے کی وجہ سے وہ آؤٹ ہو گئے۔ سکندر رضا نے آخری گیند پر باؤنڈری لگا کر رنز کے تعاقب کو یقینی بنایا۔اسے قبل متحدہ عرب امارات کے فرحان خان نے رحمان اللہ گرباز کو آؤٹ کر کے کیپیٹلز کو پہلے ہی اوور میں کامیابی دلا دی۔ ایلکس ہیلز اور میکس ہولڈن نے وائپرز کو چھ اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 64 رنز تک پہنچایا۔ ہیلز نے 7 ویں اوور میں سکندر رضا کو لگاتار دو چھکے لگائے اور 28 گیندوں پر نصف سنچری بنائی۔ انہوں نے آئی ایل ٹی 20 میں نویں بار سنگ میل عبور کرنے کے لئے سات چوکے لگائے اور تین بار باؤنڈری پار کی ۔
ہولڈن اچھے پارٹنر ثابت ہوئے اس جوڑی نے 52 گیندوں پر 98 رنز کی شراکت قائم کی تھی۔ وائپرز کا اسکور 10.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وکٹوں کے نقصان پر ویں اوور میں گیندوں پر وائپرز کو رنز کی
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں