وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں نو تعمیر شدہ قذافی اسٹیڈیم کا افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق چیئرمین نجم سیٹھی، ذکا اشرف، قومی ٹیم کے کھلاڑی اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے مختلف محکموں کے حکام میں تعریفی شیلڈز تقسیم کیں۔افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب کے لیے بڑی خوشی کا دن ہے کہ قذافی اسٹیڈیم کی تعمیر نو بہت ہی شاندار طریقے سے مکمل ہوئی، ابھی آپ نے سنا کہ ایک ٹیم کے طور پر چاہے، کنٹریکٹرز ہیں یا مزدور اور محسن نقوی کی نگرانی میں اس کام کو ممکن کر دکھایا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس اسٹیڈیم کی تعمیر نو میں بھرپور مدد کی ہے، میں آپ کا بھی اور حکومت پنجاب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، شہباز اسپیڈ تو ماضی کی بات ہے، میں اس حوالے سے محسن اسپیڈ کی بات کرتا ہوں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شاباش اور مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے حالیہ مہینوں میں بہت اعلیٰ کرکٹ کھیلی، پوری قوم کا آپ نے دل جیتا اور اب چیمپئنز ٹرافی آپ کی جیت کی منتظر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی جیت کر آپ پوری قوم کے ہیرو ہوں گے بلکہ جو ہمارا ہمسایہ (بھارت) ہے اس کو شکست دے کر آپ 24 کروڑ عوام کے دل جیتیں گے.

ہم سب آپ کے لیے دعاگو ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم اس وقت کا انتظار کریں گے جب آپ بھارت کو شکست دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انشا اللہ اللہ تعالیٰ ٹرافی پاکستان کی جھولی میں ڈالے گا، مزید کہا کہ ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں. پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ تھا، ڈرکمارکس ان کے بڑے لمبے باؤلر تھے، شفقت رانا (مرحوم) اسپن باؤلنگ کو اچھا کھیلتے تھے، لیکن فاسٹ باؤلنگ سے ہچکچاتے تھے۔شہباز شریف نے کہا کہ شفقت رانا نے 96 رنز بنا لیے، آخر اوور تھا ڈرک مارکس نے گیند کرائی شفقت نے بیٹ اوپر کیا اور بال چھوڑ دی، اگلے دن جب وہی باؤلر آئے، انہوں نے پھر بال کرائی، شفقت رانا نے شارٹ مارا اور وہ آؤٹ ہو گئے، انتہائی سست رفتاری سے ناامید ہو کر وہ پویلین کی طرف چل رہے تھے، جب پویلین پر پہنچے تو ان کا ایک بہت بڑا فین آگے بڑھ کر کہا کہ بیڈ لک، جس پر شفقت رانا نے کہا تھا کہ واقعی میں لک بڑا خراب ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آپ نے آج سے تقریباً چار ماہ پہلے سنگ بنیاد رکھا تھا، یہ ایک پرانا اسٹیڈیم تھا اور ہمارا ہدف تھا کہ چیمپئنز ٹرافی سے قبل اس کو تعمیر کیا جائے۔انہوں نے کہ تقریباً 2500 کے قریب مزدروں نے دن رات محنت سے کام کیا، اور اسے 117 روز کی ریکارڈ مدت میں جدید ترین اسٹیڈیم تیار کیا، مزید کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او نے اس ناممکن کو ممکن بنایا، ہمارے اس مشکل موقع پر بھی پاکستان آرمی ہماری مدد کو آئی ورنہ اتنے مختصر وقت میں یہ پروجیکٹ نہیں بن پاتا۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 30 سال بعد ملک میں بڑا ٹورنامنٹ ہونے جارہا ہے، ہم مل کر اس کو کامیاب کریں گے۔چیمپیئنز ٹرافی کا باضابطہ آغاز 19 فروری سے کراچی میں کرکٹ میچ سے ہوگا، ایونٹ کے بعض میچز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی ہوں گے۔چیمپیئنز ٹرافی میں بھارت نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا، جس وجہ سے پاکستان اور بھارت کے میچز کے علاوہ بھارت کے تمام میچز یو اے ای میں ہوں گے۔افتتاحی میچ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 19 فروری کو کراچی میں ہوگا، روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 23 فروری کو دبئی میں آمنے سامنے ہوں گی۔ایونٹ کا فائنل 9 مارچ کو ہوگا، اگر فائنل میں بھارت پہنچا تو ایونٹ کا آخری میچ پاکستان میں نہیں ہوگا۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے پاکستان اور پاکستان ا کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم

سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ