میر واعظ کا نوجوانوں کے بہیمانہ قتل، بلاجواز گرفتاری پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے افسوسناک واقعات بدستور جاری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو نوجوانوں کے حالیہ قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز ضلع بارہمولہ کے علاقے سنگرمہ چوک میں تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ایک ٹرک کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کا ڈرائیور شہید ہو گیا تھا۔ بھارتی پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں مکھن دین نامی ایک نوجوان کو دوران حراست تشدد کر کے شہید کر دیا۔ میر واعظ عمر فاروق نے ایکس پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یہ واقعات قابل مذمت اور انتہائی پریشان کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ماورائے عدالت قتل اور حقوق کی خلاف ورزیوں کے افسوسناک واقعات بدستور جاری ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ مجرموں کو کبھی کیفرکردار تک نہیں لایا جاتا اور احتساب اور انصاف کی فراہمی تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ میر واعظ عمر فاروق نے حالیہ دنوں میں وادی بھر میں سینکڑوں نوجوانوں کی گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور حکام سے انہیں رہا کرنے کی اپیل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میر واعظ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔