ایم کیو ایم پاکستان میں پھڈا، کارکنان کا بہادر آباددفتر پردھاوا،گورنر کیخلاف نعرے بازی
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، بہادر آباد دفتر پر کارکنان نے دھاوا بول دیا، تنظیمی معاملات کی تقسیم پر کارکنان نے شدید احتجاج کیا، کارکنوں نے کہا کہ پارٹی بہادر آباد سے چلے گی گورنر ہائوس سے نہیں، کارکنان نے گو گورنر گو اور گو ٹیسوری گو کے نعرے بھی لگائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد پر کارکنان نے اچانک دھاوا بول دیا، اور تنظیمی معاملات کی تقسیم پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا مرکزی دفتر بہادرآباد میں ہے لیکن پارٹی فیصلے گورنرہاؤس سے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز مشاورت کے بغیر سرکلر جاری کیا گیا، جس پر کارکنان نے اعتراضات اٹھا دیئے ہیں، تاحال ایم کیو ایم کارکنان کی بڑی تعداد بہادر آباد دفترپرموجود ہے۔نئے تنظیمی عہدوں کے خلاف کارکنان نے عارضی مرکز پر احتجاج جاری رکھا، اس دوران کارکنان پارٹی رہنمائوں سے دست وگریباں ہوگئے۔
علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات بڑھنے سے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا انضمام خطرے میں پڑ گیا ہے، تنظیمی عہدوں کی تقسیم پر متعدد رہنما ناراض ہیں۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سید مصطفی کمال اور سینئر رہنما انیس قائم خانی آفیشل وٹس ایپ گروپ سے بھی نکل گئے ہیں۔
ایم کیوایم پاکستان میں عہدوں کی تقسیم پر اختلافات سامنے آگئے، متعدد رہنماؤں کو ذمہ داری نہ ملنے پر کارکنان بہادر آباد مرکز پہنچ گئے اور شدید احتجاج کیا۔ایم کیو ایم کے کارکنان نے بہادرآباد مرکز میں احتجاج کیا اور شور شرابہ کیا،کارکنان کی جانب سے گو گو رنر گو کے نعرے بھی لگائےگئے۔
اختلافات میں شدت کی وجہ چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی جانب سے جاری کردہ پارٹی ذمہ داریوں کی تقسیم کا سرکلر بنا جو بغیر اجلاس اور مشاورت کے جاری کیا گیا تھا۔بہادرآباد مرکز پر مرکزی قائدین تو احتجاج کے وقت موجود نہ تھے تاہم اپنا احتجاج ریکارڈ کرانےکے بعد کارکنان منتشر ہوگئے۔
واقعے سے قبل نجی ٹی وی سے گفتگو میں پارٹی اختلافات کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پتا نہیں کس نے اور کس طرح پارٹی سرکلر کو جعلی قرار دینے کی مہم سوشل میڈیا پر چلائی؟مرکزی کمیٹی کے کچھ اراکین نے واٹس ایپ گروپ پر سرکلر سے اتفاق نہیں کیا، تحفظات پر پارٹی کے اندر ہی بات چیت ہونی چاہیے۔
لاہور پولیس کی بڑی کارروائی، میچز کی جعلی ٹکٹ فروخت کرنیوالے 4 ملزمان گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان ایم پاکستان میں پر کارکنان نے کی تقسیم پر بہادر ا باد
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل