کراچی:

بلدیہ لکی چڑھائی کے قریب  موٹر سائیکل سوار فیملی کو مسافر کوچ نے ٹکر ماردی ، جس میں حاملہ خاتون جاں بحق اور اس کی 8 سالہ بیٹی زخمی ہوگئی  جب کہ متوفیہ کا شوہر معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
 

ریسکیو ادارے کے مطابق بلدیہ لکی چڑھائی جامعہ فاروقیہ مدرسے کے قریب مسافر کوچ نے موٹر سائیکل  سوار فیملی کو ٹکر ماردی ۔حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار ماں اور بیٹی زخمی ہوگئیں، جنہیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں شدید زخمی ہونے والی ماں دوران علاج اسپتال میں جاں بحق ہوگئی۔

جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 30 سالہ عائشہ زوجہ فقیر محمد اور زخمی ہونے والی بیٹی کی8 سالہ  مریم دختر فقیر محمد سے ہوئی۔حادثے میں موٹر سائیکل سوار اور متوفیہ کا شوہر  فقیر محمد محفوظ رہا ۔

پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد خاتون کی لاش کو تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کردیا۔ 

حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے دیور فاروق نے میڈیا کو بتایا کہ میرا بھائی فقیر محمد اپنی موٹر سائیکل پر فیملی کے ہمراہ سسرال واقعہ لکی چڑھائی بلدیہ ٹاؤن سے گھر گلشن مزدور آرہا تھا کہ جامعہ فاروقیہ بلدیہ کے قریب مسافر کوچ نے اس کی موٹر سائیکل کوٹکر ماردی۔

انہوں نے بتایا کہ بھابی حاملہ تھیں۔بھائی مزدوری کا کام کرتا ہے اور اس کے 2 بچے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ہیوی ٹریفک کو لگادم دے اور  ٹریفک حادثات کو روکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: موٹر سائیکل مسافر کوچ ہونے والی

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار