کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران رہنما ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارا یہ رونا تھا کہ کوٹہ سسٹم سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والوں پر روزگار کے دروازے بند کرتا ہے، تاہم اب سندھ حکومت کی پالیسیوں کے سبب پروفیشنل تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پروفیشنل تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے ڈومیسائل کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان کا کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے بچوں کے مستقبل اور میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کوٹہ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہاں ظلم و ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی والوں کو تعلیم سمیت ہر طرح کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، ہمارے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ رہنما ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارا یہ رونا تھا کہ کوٹہ سسٹم سندھ کے شہری علاقوں میں رہنے والوں پر روزگار کے دروازے بند کرتا ہے، تاہم اب سندھ حکومت کی پالیسیوں کے سبب پروفیشنل تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کی پالسیوں پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں 40 فیصد کوٹہ شہری سندھ کے نوجوانوں کا ہے، تاہم وہ حصہ بھی جعلی یا بوگس ڈومیسائل کی نذر ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ سلسلہ روزگار کی فراہمی سے بڑھ کر پروفیشنل کالجز میں داخلوں تک بڑھ گیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے ماضی کی داخلہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ آج سے کچھ سال پہلے تک یہ واضح پالیسی تھی کہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں فوقیت کراچی بورڈ سے امتحان پاس کرنے والوں کو دی جائے گی۔ انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آج بھی 90 فیصد سیٹیں کراچی سے میٹرک کرنے والوں کو دی جاتی ہیں جب کہ دیگر سرکاری تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاؤمیڈیکل کالج، لیاری میڈیکل کالج اور کراچی میڈیکل کالج میں اور کراچی یونیورسٹی میں خاص طور پر کراچی کے طلبہ پر داخلوں کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔ میڈیکل کا لجز میں داخلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق کراچی کے سرکاری میڈیکل کالجز میں 1180 سیٹیں ہیں، جن میں سے 250 سیٹیں واضح طور پر کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کی ہیں۔ انہوں نے رواں سال میڈیکل کالجز میں داخلوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ باقی 970 سیٹوں میں سے کم و بیش 400 سیٹیں ایسے طلبہ کو ملی ہیں، جنہوں نے انٹرمیڈیٹ کراچی سے نہیں کیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ جس بچی نے ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ میں ٹاپ کیا ہے، اس کا انٹرمیڈیٹ اور میٹرک اسلام آباد کا، جب کہ رہائشی پتا بھی راولپنڈی یا اسلام آباد کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹر سال اول کا امتحان جو 30 ہزار بچوں نے دیا تھا، ان میں سے صرف 10 ہزار بچے کامیاب ہو سکے، یعنی رزلٹ صرف 30 فیصد رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ہم کراچی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف اردو بولنے والے نہیں ہیں، کیونکہ کراچی میں شاید 55 فیصد ایسے لوگ ہوں گے جن کے والدین نے ہندوستان سے ہجرت کی، تاہم 45 فیصد وہ لوگ بھی ہیں جو مختلف زبانیں بولنے والے ہیں، تاہم وہ یہاں رچ بس گئے ہیں اور ان کے بچے بھی کراچی کے بچوں ہی میں شامل ہیں۔ انہوں نے دیگر بورڈز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کا نتیجہ تو 70 سے 75 فیصد تک آتا ہے، تو کراچی بورڈ کے نتائج ہی 30 فیصد کیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کو داخلہ پالیسی میں ڈومیسائل کی مار ماری جا رہی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ ڈومیسائل سسٹم ختم کیا جائے اور پروفیشنل کالجز میں آئی ڈی کارڈ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کے نمبر، میٹرک اور انٹر تینوں کے نمبرز شامل کیے جاتے ہیں، اس کے بعد ایک نام نہاد میرٹ لسٹ بنائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میٹرک کی سطح ہی سے ہمارے بچوں کا حق مارنا شروع کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی بھی شہر سے تعلق رکھنے والے لوگ یہاں آکر ڈومیسائل بنوا لیتے ہیں، کچھ عرصہ قبل تک عارضی طور پر جائیداد نام کرکے بھی ڈومیسائل بنا دیا جاتا تھا، یعنی قومی خزانے کو 70 فیصد ہم دیں، صوبائی خزانے کو 95 فیصد ہم دیں، پھر میٹرک بورڈ ہمیں بے دردی سے کاٹے، انٹربورڈ ہماری روح فنا کردے اور آخر میں ایم ڈی کیٹ کا امتحان اور ڈومیسائل کا نظام بھی ہمیں ہی زندہ درگور کردے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ کے دروازے بند میڈیکل کالج ڈومیسائل کی ایم کیو ایم ہوئے کہا کہ فاروق ستار میڈیکل کا کالجز میں کرتے ہوئے کراچی میں میں داخلے کراچی کے سندھ کے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا