سپریم کورٹ میں نئے تعینات ہونے والے ججز کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
سپریم کورٹ میں نئے تعینات ہونے والے دو چیف جسٹسز اختیارِ سماعت کو لے کر 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں مسترد کرچکے ہیں۔
گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں 8 ججز کی تعیناتی کی منظوری دینا تھی لیکن 6 ججز تعینات کیے گئے اور لاہور ہائیکورٹ سے کوئی جج تعینات نہیں کیا گیا، اس ضِمن میں ایک تو سوال یہ ہے کہ آیا سپریم کورٹ میں اتنے ججز کی ضرورت کیا تھی؟
یہ بھی پڑھیں جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں 6 ججوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی
آج چیف جسٹس نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران اِس بات پر زور دیا کہ سپریم کورٹ ججز جو ایک روز میں 12 مقدمات کی سماعت کیا کرتے تھے، اب 40/30 مقدمات کی سماعت کرتے ہیں اور ججز کے اوپر کام کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور اُنہیں سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت تیز کرنے کے لیے زیادہ ججز درکار ہیں۔
دوسرا اُنہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے ایکٹنگ جج جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب کے بارے میں کہاکہ اُن کو سپریم کورٹ لانے کی تجویز اُنہوں نے خود دی تھی کیونکہ اُنہیں کارپوریٹ اور ٹیکس مقدمات کی سماعت کرنے والا جج چاہیے، لیکن ساتھ ہی اُنہوں نے یہ کہاکہ جسٹس میاں گُل حسن اورنگزیب اب بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کو چھوڑ کر ملک کی 4 ہائیکورٹس سے 6 ججز سپریم کورٹ میں تعینات کیے گئے ہیں، اور جوڈیشل کمیشن کے آئندہ اجلاس میں ممکنہ طور پر لاہور ہائیکورٹ سے ججز کی تعیناتی پر غور کیا جائےگا۔ سپریم کورٹ میں جج تعینات ہونے والوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس اشتیاق ابراہیم، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس شفیع صدیقی، بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس ہاشم کاکڑ، پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شکیل احمد اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس صلاح الدین پنہور شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے نئے ججز کون ہیں؟ جسٹس عامر فاروقجسٹس عامر فاروق اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں، وہ یکم جنوری 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات ہوئے اور 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے مستقل جج بن گئے۔ 11 نومبر 2022 کو اُنہوں نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
2010 میں وجود میں آنے والی اسلام آباد ہائیکورٹ باقی ہائیکورٹس سے اس لیے زیادہ اہم ہے کہ وفاقی حکومت سے متعلق مقدمات، سیاستدانوں، بیوروکریٹس سے متعلق مقدمات اکثر اسی عدالت میں زیر سماعت آتے ہیں اور اپنے قیام سے لے کر اب تک یہ عدالت قومی نوعیت کے کئی مقدمات کے فیصلے کرچُکی ہے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی بریت کے فیصلے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے صادر ہوئے اور اُن بینچز میں چیف جسٹس عامر فاروق بھی شامل تھے۔ اسی طرح سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق بھی بہت سارے مقدمات کا یا تو اسلام آباد ہائیکورٹ سے فیصلہ ہوا یا زیرِالتوا ہیں۔
جسٹس عامر فاروق کے مشہور فیصلے اور اُن سے جُڑے تنازعاتحال ہی میں جب جسٹس سرفراز ڈوگر لاہور ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججوں نے سینیارٹی کے حوالے سے چیف جسٹس عامر فاروق کے سامنے ریپریزنٹیشن فائل کی جسے اُنہوں نے مسترد کردیا۔
جسٹس عامر فارق اُس بینچ کا حصہ تھے جس نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اضافی سیکیورٹی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی تھی۔
گزشتہ سال 24 نومبر کو پی ٹی آئی احتجاج کے حوالے سے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد کے تاجروں کی درخواست پر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں پر برہمی کا اظہار کیاکہ دونوں شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔
اکتوبر 2024 میں جسٹس عامر فاروق نے ماتحت عدلیہ کے سول جج انعام اللہ کو معطل کردیا تھا جس نے مارگلہ ہلز پر تعمیرات کے انہدام کے حوالے سے سپریم کورٹ احکامات پر حکم امتناع جاری کردیا تھا۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد ظاہر کیا اور اُس کے بعد جولائی 2024 میں اُن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کردیا۔
جسٹس محمد اشتیاق ابراہیمجسٹس محمد اشتیاق ابراہیم اس وقت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ وہ 11 اگست 2016 کو پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے جبکہ اِس کے بعد 2017 میں اُنہیں ایک سال کی توسیع دی گئی اور پھر یکم جون 2018 کو وہ پشاور ہائیکورٹ کے مستقل جج مقرر ہوئے۔ اُنہوں نے 20 اپریل 2024 کو بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اپنے عہدے کا حلف لیا۔
5 فروری 2025 کو چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پہلی ایسی عدالت کا افتتاح کیا جو صرف وراثت سے متعلق مقدمات سننے کے لیے مختص ہے۔
جسٹس محمد اشتیاق ابراہیم گزشتہ برس نومبر میں پشاور ہائیکورٹ کے اُس بینچ کے سربراہ تھے جس نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست مسترد کردی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر ہونی چاہییں کیونکہ یہ ایسے معاملے سے متعلق ہے جو سارے ملک کو متاثر کرتا ہے۔
اگست 2024 میں خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ 9 مئی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے ججز نامزد کریں۔ اس درخواست کے جواب میں بذریعہ رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ جواب دیا گیا کہ درخواست مجاز فورم سے دائر نہیں کی گئی۔
جسٹس شفیع صدیقیجسٹس شفیع صدیقی اس وقت سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ انہوں نے 13 جولائی 2024 کو اپنے عہدے کا حلف لیا۔ اس سے قبل وہ کچھ عرصہ چیف جسٹس عقیل عباسی کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی کے بعد سے بطور قائم مقام چیف جسٹس فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ 2012 میں سندھ ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ اس سے قبل 1992 میں بطور ایڈووکیٹ ماتحت عدالتوں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ 1994 میں بطور ہائیکورٹ ایڈووکیٹ اور 2008 میں سپریم کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ انرولڈ ہوئے۔
جسٹس شفیع صدیقی نے جن کیسز کے فیصلے سنائے ان میں آئینی، ٹیکسیشن، کسٹمز اور ہائیکورٹ اپیلوں کے فیصلے شامل ہیں۔
جسٹس شفیع صدیقی کی سربراہی میں سندھ ہائیکورٹ کے ایک بینچ نے 15 اکتوبر 2024 کو 26 ویں آئینی ترمیمی بِل کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے کہاکہ ابھی تو یہ بِل پارلیمنٹ میں پیش ہوا ہے، اِس مرحلے پر مداخلت نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑجسٹس ہاشم کاکڑ اس وقت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ وہ ماتحت عدلیہ سے ترقی پا کر ہائیکورٹ کے جج بنے۔ 11 مارچ 2002 کو جسٹس کاکڑ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج مقرر ہوئے، 12 مئی 2011 کو وہ بلوچستان ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات ہوئے اور 11 مئی 2012 کو مستقل جج بنے جبکہ 20 اپریل 2024 کو بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تعینات ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سپریم کورٹ صوبائی ہائیکورٹس نوتعینات ججز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس یحیی ا فریدی سپریم کورٹ صوبائی ہائیکورٹس نوتعینات ججز وی نیوز ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں اسلام ا باد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پشاور ہائیکورٹ کے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس شفیع صدیقی مقدمات کی سماعت لاہور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم ہائیکورٹ کے جج سپریم کورٹ میں ہائیکورٹ کے ا جوڈیشل کمیشن جج مقرر ہوئے ہائیکورٹ سے تعینات ہونے ہائیکورٹ ا جج تعینات ا نہوں نے کے فیصلے کے خلاف اور ا ن ججز کی کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم