رمضان سے قبل ٹریفک مینجمنٹ اور فرسٹ ایڈ سیمینارکا انعقاد خوش آئند ہے، ڈپٹی میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ محکمہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ (CIIM)میں ٹریفک مینجمنٹ اور فرسٹ ایڈ کے حوالے سے ہر سال کی طرح رواں سال بھی ماہ رمضان المبارک سے قبل ایک روزہ سیمینار کا انعقاد خوش آئند ہے، منعقدہ سیمینار سے ٹریفک قوانین، ٹریفک جام کے مسائل اور فرسٹ ایڈ کے حوالے سے سٹی وارڈنز نے بھرپور استفادہ کیا۔
عبداللہ مراد نے کہا کہ رمضان المبارک کے موقع پر اس سال بھی سٹی وارڈنز کو خصوصاً افطار، نماز و تروایج اور ان شاہراہوں پر تعینات کیا جائے گا جو کہ ٹریفک جام کا باعث بنتی ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر سے بہتر کیا جاسکے۔
اس موقع پر محکمہ سٹی انسٹیٹیوٹ آف امیج مینجمنٹ کے ڈائریکٹر محمد شاہد، ڈائریکٹر سٹی وارڈن راجہ رستم، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سندھ کے ماسٹر ٹرینر ڈاکٹر سید محمد، انچارج ریسرچ اینڈ روڈ سیفٹی سندھ پولیس علی سہاگ (SPAARC)، سب انسپکٹر غلام محمد رند، پیر بخش، غضنفر سرفراز، سٹی وارڈنز اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی سندھ کے ماسٹر ٹرینر ڈاکٹر سید محمد نے سی پی آر (CPR) اور فرسٹ ایڈ کے حوالے سے تفصیلی ٹریننگ دی اور عملی پریکٹس بھی کروائی، انچارج ریسرچ اینڈ روڈ سیفٹی سندھ پولیس علی سہاگ نے ٹریفک قوانین کے بارے میں تفصیلی لیکچر دیا اور دوران پریکٹس ٹریفک قوانین اور فرسٹ ایڈ کے حوالے سے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔