انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا اور کالج آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی، جہاں گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی تقریب کے مہمان خصوصی تھے، تقریب میں انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا اور کالج آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
دستخط ہونے والی یادداشت کے تحت سوات میں ادارہ قائم کیا جائے گا جہاں نوجوانوں سیاحت، مہمان نوازی کے تکنیکی کورسز نیوٹک کے تعاون سے کرائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا حکومت کا ہوم اسٹے ٹورازم پروگرام ’میزبان‘ کیا ہے اور اس کے لیے اہلیت کیا ہے؟
تقریب میں چیئرپرسن نیوٹک گلمینہ بلال، چیئرمین انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا حبیب اورکزئی اور کالج آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے ظہیر احمد و دیگر شریک ہوئے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نیوٹک، انجمن ہلال احمر اور کالج آف ٹورزم اینڈ ہوٹل منیجمنٹ انتظامیہ کو معاہدہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور اہم اقدام ہے جو شہید قائد محترمہ بینظیربھٹوصاحبہ کے عورتوں کی خودمختاری کے مشن کو آگے بڑھانے کا تسلسل ہے۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات کے لیے ہیلی کاپٹر سروس کا آغاز، کرایہ کتنا ہوگا؟
گورنر خیبر پختونخوا کے مطابق مفاہمت کی یادداشت پر دستخط تینوں اداروں کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری کا آغاز ہے، جس سے صوبے میں سیاحت کے شعبے کی ترقی اورنوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسکلز ڈویلپمنٹ کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ تربیت یافتہ افرادی قوت کی دنیا بھر میں مانگ ہے، صوبہ میں سیاحت اور مہمان نوازی دونوں شعبوں میں معاشی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کالج آف ٹورزم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ گورنر ہاؤس پشاور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی گورنر ہاؤس پشاور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط اور کالج آف فیصل کریم
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔