کراچی:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل سینٹنر نے سہ فریقی سیریز کے فائنل سے قبل کراچی اور لاہور کے شائقین کرکٹ کی زبردست سپورٹ کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنل ایک ہائی اسکورنگ مقابلہ ہوگا اور اسٹیڈیم میں موجود 90 فیصد تماشائی پاکستان کے حق میں ہوں گے۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سینٹنر نے کہا کہ کراچی کی پچ بیٹنگ کے لیے سازگار ہے، جس کا ثبوت پاکستان کی جانب سے جنوبی افریقا کے خلاف بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائنل میں بھی رنز کا انبار لگنے کی توقع ہے اور ہم ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کے منتظر ہیں۔

کیوی کپتان نے پاکستانی شائقین کی بھرپور سپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی اور لاہور کا کراؤڈ زبردست ہے اور لگتا ہے کہ فائنل میں 99 فیصد شائقین ان کے خلاف ہوں گے،تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں کھیلنے کا تجربہ ہمیشہ شاندار رہتا ہے۔

سینٹنر نے بتایا کہ ان کی ٹیم کو فائنل کی تیاری کے لیے مناسب وقت ملا ہے، لیکن مسلسل 2میچ کھیلنے کے بعد کچھ تھکن ضرور محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے راچن رویندرا کی انجری پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کی حالت بہتر ہے، لیکن ان کی فٹنس پر کوئی جلد بازی میں فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

فائنل کے لیے نیوزی لینڈ کی پلیئنگ الیون کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، تاہم سینٹنر پرامید ہیں کہ ان کی ٹیم فائنل میں بہترین کارکردگی دکھائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز آج رات اہم مقابلہ، سب کی نظریں میچ پر
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار