جشن بہاراں کا مقصد پاکستان کی ثقافت اور کلچر کو اجاگر کرنا ہے : محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جشن بہار اں میلے کے انعقاد کا مقصد پاکستان کی ثقافت اور کلچر کو اجاگر کرنا ہے۔
اسلام آباد کے شہری 25، 26 اور 27 فروری کو جشن بہاراں سے محظوظ ہو سکیں گے، جشن بہاراں میں پاکستان بھر کے روایتی اور مشہور کھانوں کے سٹالز لگائے جائیں گے ، جشن بہاراں میں رینجرز کا دستہ مشعل پریڈ اور اسلام آباد پولیس کا دستہ شمع پریڈ کا مظاہرہ کرے گا۔
تیز رفتار گاڑی 28 مزدور کچل گئی
میلے میں پاک فوج کے بینڈز بھی پرفارم کریں گے، جشن بہاراں کے دوران آتش بازی کا زبردست مظاہرہ ہو گا جبکہ خٹک، کیلاش اور کتھک سمیت روایتی رقص کے شوز بھی پیش کئے جائیں گے ، رینجرز کی کیمل پلٹون اور نیزہ بازی کی ٹیمیں بھی مظاہرہ کریں گی ۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے پولیس لائنز اسلام آباد کا دورہ کیا اور جشن بہاراں کے لیے شمع پریڈ کی ریہرسل کا معائنہ کیا۔
بعدازاں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس بھی ہوا جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آبادپولیس، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ حکام شریک ہوئے، اجلاس میں جشن بہاراں میلے کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
’صنم تیری قسم‘ ری ریلیز کا ریکارڈ بزنس، کامیابی کی اصل وجہ کیا؟
اجلاس کے دوران گفتگوکرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جشن بہاراں میں عوام کی تفریح کیلئے پہلی بار روایت سے ہٹ کر منفرد پروگرامز پیش کئے جائیں گے، جشن بہاراں کا مقصد پاکستان کی ثقافت اور کلچر کو اجاگر کرنا ہے، جشن بہاراں میں سفارتی برداری کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ ہماری ثقافت سے روشناس ہو سکیں، پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کے سی ای آوز کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
گھروں میں گاڑی دھونے پر پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ہوگا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
اسلام آباد کچہری میں سموسے پر چٹنی نہ ڈالنے کے معاملے پر ویٹر اور پولیس اہلکار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوگیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق کچہری میں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار نے سموسے کے ساتھ چٹنی ڈالنے کا کہا، تاہم ویٹر نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سموسہ پلیٹ 120 روپے کی ہے جبکہ چٹنی شامل کرنے پر قیمت 150 روپے ہوگی۔
ویٹر کے انکار پر دونوں کے درمیان تکرار شروع ہوگئی، جس کے باعث موقع پر موجود افراد کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوگئی۔
واقعے کے بعد وکلاء نے کیفے ٹیریا بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار اور سائلین کھانے کے لیے کچہری آتے ہیں، لیکن کیفے ٹیریا انتظامیہ اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔