ملائیشیا نے ایسے پاکستانی شہریوں کے لیے ای ویزا سروس شروع کی ہے جو وہاں بطور سیاح آکر ملک دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔

پاکستانی شہری چھ ماہ کی میعاد کے ساتھ ملائیشیا کے قوانین کے مطابق ای ویزا کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں، ای ویزا ایک آن لائن ایپلی کیشن پلیٹ فارم ہے جس کے تحت غیرملکی شہری اپنی سہولت کے مطابق ملائیشیا میں داخل ہونے کے لیے الیکٹرانک ویزا کی درخواست دے سکتے ہیں۔

ملائیشیا کے وزٹ ویزا کے لیے درکار دستاویزات میں پاسپورٹ، درخواست گزار کی پاسپورٹ سائز تصویر، ہوٹل کی بکنگ یا رہائش کا ثبوت، واپسی کا ٹکٹ، ملائیشیا کا سفر کرنے کے لیے درکار فنڈز کا ثبوت چاہیے ہوگا۔پاکستان میں 15 فروری 2025 تک ملائیشیا کے ای ویزا کی فیس 20 ملائیشین رنگٹ ہے، ایک رنگٹ اس وقت 62.

90 روپے کے برابر ہے، لہٰذا الیکٹرانک سنگل انٹری ویزا کی قیمت 1,258 روپے بنتی ہے۔

سروس چارجز کے علاوہ امیدواروں کو ویزا پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنا ہوگی جو کہ 105 رنگٹ ہے، درخواست دہندگان ایک درست ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ساتھ ای ویزا پروسیسنگ فیس ادا کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ ملائیشیا ایک مقبول سیاحتی مقام کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے ساحل، بارشوں کے باعث سرسبز جنگلات اور تاریخی مقامات کا امتزاج لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، یہ خصوصیات اسے چھٹیاں گزارنے کے لیے بہترین مقام بناتی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔  

حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔  

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر سسٹم بند، ٹیکس دہندگان کے لیے اہم ہدایت جاری
  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری