پاکستان میں 5 جی کی لانچنگ میں پیشرفت، اہم اعلان کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ ریگولیٹر اس سال اپریل اور مئی کے درمیان 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 جی موبائل انٹرنیٹ کی لانچنگ ٹائم لائن میں مزید کتنی تاخیر ہوسکتی ہے؟
ملائیشیا کے ٹیلی کام حکام کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمینن پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے پاکستان میں 5جی سروسز کے آغاز میں موجودہ تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 5 جی کی آمد معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ دے گی اور ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھائے گی۔
ملائیشیا کے ٹیلی کام کے نمائندوں جن کے ملک میں پہلے ہی 5 جی سے 5.
پی ٹی اے کے چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان 5 جی سروسز شروع کرنے میں ملائیشیا کی مہارت سے فائدہ اٹھائے گا۔
مزید پڑھیے: 5 جی موبائل انٹرنیٹ کی لانچنگ ٹائم لائن میں مزید کتنی تاخیر ہوسکتی ہے؟
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام شازہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان 5 جی کے آغاز کے قریب پہنچ رہا ہے اور اس حوالے سے منصوبہ بندی اور مشاورت زوروشور کے ساتھ جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5 جی ٹیک پاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ پی ٹی اے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 5 جی ٹیک پاکستان میں 5 جی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ پی ٹی اے پاکستان میں 5 پی ٹی اے
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔