حمزہ علی عباسی کی نکاح پڑھانے کی وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
پاکستان شوبز کے معروف اداکار و میزبان حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں ایک ویڈیو کے ذریعے اپنے مداحوں کو حیران کر دیا جس میں وہ شادی کی تقریب میں ایک جوڑے کا نکاح پڑھاتے نظر آئے۔
حمزہ علی عباسی نے نکاح پڑھایا اور دولہا کی جانب سے حق مہر کی رقم کا بھی اعلان کیا۔ اداکار کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
نکاح پڑھانے کی اس ویڈیو پر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں اور کچھ صارفین حمزہ علی عباسی کو مزاحیہ انداز میں مولانا حمزہ علی عباسی کہہ رہے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by All Pakistan Drama Page (@allpakdramapageofficial)
کچھ سوشل میڈیا صارفین اداکار کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ لوگوں کو بنیادی مذہبی فرائض خود ادا کرنے چاہئیں۔
جبکہ کچھ صارفین ان پر تنقید کرتے ہوئے بھی کہہ رہے ہیں کہ اداکاروں کو نکاح کے عمل کے آداب اور حساسیت کا علم نہیں ہے، اس لیے انہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’اتنا ہینڈسم مولوی، میرا بھی نکاح پڑھا دو‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حمزہ علی عباسی سوشل میڈیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔