رجب بٹ نے جنگلی حیات پر آگاہی کا ویلاگ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
ٹک ٹاکر رجب بٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے جنگلی حیات پر آگاہی وی لاگ جاری کر دیا۔
لاہور کی مقامی عدالت کی جانب سے لائسنس کے بغیر شیر کا بچہ رکھنے پر ٹک ٹاکر رجب بٹ کو ہر ماہ جنگلی حیات سے متعلق آگاہی وی لاگ کرنے کی سزا سنائی گئی تھی۔ جس پر عمل کرتے ہوئے رجب بٹ نے اپنا پہلا وی لاگ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا ہے۔
کسی اور موضوع پر بنائے گئے 36 منٹ دورانیہ کے وی لاگ کے آغاز میں دو منٹ تک جنگلی حیات سے متعلق آگاہی دی گئی، جس میں رجب بٹ نے پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی۔
ٹک ٹاکر نے اپنے پیغام میں کہا کہ جنگلی جانوروں سے محبت کریں تو وہ بھی محبت کرتے ہیں، لیکن انہیں گھروں میں رکھنا ہمارے اور ان جانوروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
رجب بٹ نے عوام سے اپیل کی کہ جنگلی جانوروں کو رکھنے کے لیے حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں، ان پر مکمل عمل کیا جائے تاکہ انسانوں اور جانوروں دونوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ کو ان کی شادی کے موقع پر ایک دوست کی جانب سے تحفے میں شیر کا بچہ دیا گیا تھا تاہم اس کی ویڈیو وائرل ہونے پر بغیر لائسنس شیر کا بچہ رکھنے پر رجب بٹ کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنگلی حیات
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔