پاکستان اسپورٹس بورڈ نے نیٹ بال فیڈریشن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 کے نتائج کے بارے میں گمراہ کن دعوے کا 72 گھنٹوں میں جواب نہ دینے پرپاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
ترجمان پی ایس بی خرم شہزاد کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے 13 جولائی 2025 کو پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 میں پاکستان یوتھ گرلز ٹیم کی "پہلی پوزیشن" کے دعوے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) سے تین روز میں وضاحتی جواب طلب کیا تھا۔ تاہم مقررہ وقت تک فیڈریشن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
جمعہ کو پی ایس بی کی جانب سے مذکورہ فیڈریشن کے خلاف کارروائی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود آپ کی جانب سے کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی جو نہ صرف سرکاری مراسلت اور جوابدہی سے دانستہ چشم پوشی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس خاموشی کو اعتراف سمجھا جاسکتا ہے۔
شوکاز نوٹس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ 9 جولائی کو نیٹ فیڈریشن کی جانب سے پی ایس بی کو بھجوائے گئے خط میں غلط طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان یوتھ گرلز نیٹ بال ٹیم نے جنوبی کوریا کے شہر جیونجو میں منعقدہ ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 میں پہلی پوزیشن حاصل کی حالانکہ سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان نے چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔
شوکاز میں کہا گیا کہ نیٹ بال فیڈریشن بخوبی آگاہ تھی کہ نقد انعامات کی پالیسی صرف تمغہ جیتنے والی ٹیموں تک محدود ہے، فیڈریشن نے اس پالیسی کے تحت نقد انعام کا باقاعدہ مطالبہ کیا۔ یہ غلط بیانی ٹیلی ویژن انٹرویوز اور عوامی بیانات کے ذریعے بھی پھیلائی گئی، جن میں پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کے چیئرمین، مدثر رزاق آرائیں نے عوامی طور پر گولڈ میڈل جیتنے کا دعویٰ کیا اور عوام و متعلقہ فریقین کو دانستہ گمراہ کیا۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ نیٹ بال فیڈریشن کے یہ اقدامات پی ایس بی کے آئین کے قاعدہ 21(1)(vi) اورپاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس کے کلاز 5(1)(vi) کی صریحاً خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتے ہیں جو کہ فیڈریشنز کو درست اور بروقت معلومات کی فراہمی کا پابند اور اختیار کے ناجائز استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ اس غلط بیانی کے ذریعے نقد انعام اور سرکاری سطح پر اعتراف کا دعویٰ کیا گیا جو نہ صرف اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی ہے بلکہ آپ کی فیڈریشن پر کیے گئے اعتماد کی بھی خلاف ورزی ہے۔
شوکاز نوٹس میں ہدایت دی گئی کہ اس نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے سات (07) دن کے اندر تحریری طور پر وضاحت پیش کریں کہ کیوں نہ پاکستان نیٹ بال فیڈریشن پر اس سنگین خلاف ورزی کے باعث ایک (01) ملین روپے ( دس لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا جائے۔
مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں یک طرفہ کارروائی کی جائے گی اور معاملہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے آئین اور پاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس کے تحت مزید تادیبی اور مالی اقدامات کے لیے بورڈ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان نیٹ بال فیڈریشن پاکستان اسپورٹس بورڈ شوکاز نوٹس میں میں کہا گیا کی جانب سے پی ایس بی گیا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ